براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 523
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۲۱ براہین احمدیہ حصہ تک دیکھتے ہیں تو اس میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں اور اورشلیم میں باب الضان کے پاس ایک حوض ہے جو عبرانی میں بیت حسدا کہلاتا ہے اس کے پانچ اسارے ہیں ۔ ان میں ناتوانوں اور اندھوں اور لنگڑوں (۴۳۶) مناسب حال شقاوت عظمی کی تکمیل کے لئے فرقان مجید میں مندرج ہے مورد اعتراض بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ سمجھتے ہیں مگر ایسی سمجھ پر پتھر پڑیں کہ جو ایک بدیہی اور کامل صداقت کو عیب کی صورت میں تصور کیا جائے ۔ افسوس یہ لوگ کیوں نہیں سمجھتے کہ سعادت عظمی یا شقاوت عظمی کے ۴۳۶ اور وہی زمین میں خدا ۔ وہی اول ہے اور وہی آخر ۔ وہی ظاہر ہے وہی باطن ۔ آنکھیں اس کی کنہ دریافت کرنے سے عاجز ہیں اور اس کو آنکھوں کی کنہ معلوم ہے وہ سب کا خالق ہے اور کوئی چیز اس کی مانند ہیں اور اس کے خالق ہونے پر یہ دلیل واضح ہے کہ ہر یک چیز کو ایک اندازہ مقرری میں محصور اور محدود پیدا کیا ہے جس سے وجود اس ایک حاصر اور محمد وکا ثابت ہوتا ہے اس کے لئے تمام محامد ثابت ہیں اور دنیا و آخرت میں وہی منعم حقیقی ہے اور اسی کے ہاتھ میں ہر یک حکم ہے اور وہی تمام چیزوں کا مرجع و مآب ہے ۔ خدا ہر یک گناہ کو بخش دے گا جس کے لئے چاہے گا پر شرک کو ہرگز نہیں بخشے گا۔ سو جو شخص خدا کی ملاقات کا طالب ہے اسے لازم ہے کہ ایسا عمل اختیار کرے جس میں کسی نوع کا فساد نہ ہو اور کسی چیز کو خدا کی بندگی میں شریک نہ کرے۔ تو خدا کے ساتھ کسی دوسری چیز کو ہرگز شریک مت ٹھہراؤ خدا کا شریک ٹھہرانا سخت ظلم ہے۔ تو بجز خدا کے کسی اور سے مراد میں مت مانگ سب ہلاک ہو جائیں گے ایک اسی کی ذات باقی رہ جاوے گی ۔ ۴۳۲ اسی کے ہاتھ میں حکم ہے اور وہی تمہارا مرجع ہے۔ تیرے خدا نے یہ چاہا ہے کہ تو فقط اسی کی بندگی کر اور اپنے ماں باپ سے احسان کرتا رہ اور اگر تجھے اس بات کی طرف بہکا دیں کہ تو میرے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرادے تو ان کا کہا مت مان ۔ اگر تجھے کوئی تکلیف پہنچے تو بجز خدا اور کوئی تیرا یار نہیں کہ اس تکلیف کو دور کرے اور اگر تجھے کچھ بھلائی پہنچے تو ہریک بھلائی کے پہنچانے پر