براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 509 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 509

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۰۷ براہین احمدیہ حصہ چہارم تمام قومی انسانیہ کا قیام اور بقا محنت اور ورزش پر ہی موقوف ہے ۔ اگر انسان (۲۲۴) ہمیشہ آنکھ بند ر کھے اور کبھی اس سے دیکھنے کا کام نہ لے ( تو جیسا کہ تجارب طبیہ سے ثابت ہو گیا ہے) تھوڑے ہی دنوں کے بعد اندھا ہو جائے گا اور اپنی اُس شقاوت عظمی کو کہ جو تمام شقاوتوں کی آخری حد ہے پہنچ جائے اور تا ہر یک فریق اس اعلیٰ درجہ کے مکافات کو پالے جو اس کے لئے ممکن ہے یعنی اس کامل اور دائمی مکافات کو پالے کہ جو اس عالم بے بقا اور زوال پذیر میں جس کا تمام رنج و راحت موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے ہمعصہ ظہور نہیں آ سکتی بلکہ اس کے کامل ظہور کے لئے یعنی اُس کی پرستش کرتے ہیں ۔ سورج کی تیز رفتار ہمایون فال ہاتھ پاؤں کے مضبوط راستہ طے کرنے والے گھوڑے جن کی ہم نے پرستش کی ہے اور جو تعریف کئے جانے کے مستحق ہیں آسمان کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں اور جلد زمین اور آسمان کے گرد پھر آئے ہیں ۔ ایسا دیوتا پن د اور جلال سورج کا ہے کہ جب وہ غروب ہو جاتا ہے وہ پھیلی ہوئی روشنی کو جو ادھورے کام پر پھیلی ہوئی تھی اپنے میں چھپا لیتا ہے۔ جب وہ اپنے گھوڑوں کو کھول دیتا ہے۔ اس وقت رات کی تاریکی سب پر چھا جاتی ہے ۔ آفتاب مترا دیوتا اور ورن دیوتا کے سامنے اپنی روشن صورت آسمان کے درمیان ظاہر کرتا ہے اور اس کی کرنیں ایک تو اس کی بے حد روشن طاقت کو پھیلاتی ہیں اور دوسری جب وہ چلی جاتی ہیں تب رات کی تاریکی لاتی ہیں ۔ آج دیوتاؤ سورج کے نکلتے ہی ہمیں نالائق باتوں سے بچاؤ۔ اور ایسا ہو کہ مترا دیوتا ورن دیوتا ادوتی بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ دیوی سمند ر دیوتا دھرتی دیوی اکاس دیوتا اس ہماری دعا کو متوجہ ہو کر سنیں ۔ اب ناظرین اس کتاب کے خود خیال فرما دیں کہ اس قدر شرتیوں سے جن کا ایک ذخیرہ کلاں یہاں لکھ کر کئی صفحے ہم نے سیاہ کئے ہیں کیا کچھ خدا کا بھی پتہ مل سکتا ہے ۔ اور حضرات آریا سماج والے انصافا ہم کو بتلا دیں کہ رگوید نے ان