براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 505 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 505

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۰۳ براہین احمدیہ حصہ اُن تمام اہل کمال لوگوں پر ظاہر کیا جن پر تیرا فضل اور کرم تھا چونکہ اہل کمال لوگوں کا صراط مستقیم یہی ہے کہ وہ علی وجہ البصیرت حقائق کو معلوم کرتے ہیں نہ ۲۲۱ اندھوں کی طرح ۔ پس اس دعا کا ماحصل تو یہی ہوا کہ خدا وندا وہ تمام بقيه حاشیه در خدائے تعالیٰ کی ملکیت تامہ کہ جو تجلیات عظمیٰ پر موقوف ہے ظہور میں آ کر پھر اس (۲۲۱) ملکیت تامہ کی شان کے موافق پوری پوری جزا بندوں کو دی جائے ۔ یعنی اول اُس مالک حقیقی کی ملکیت تامہ کا ثبوت ایسے کامل الکلہور مرتبہ پر ہو جائے کہ کرتا ہوں تا کہ وہ اور دیوتاؤں کو لینے جائے ۔ اے بگ کرنے والی اور سُسرب گیانی اگنی سب آدمی تجھے روشن کرتے ہیں بہت لوگ بلاتے ہیں عاقل دیوتاؤں کو جلدی سے یہاں لا۔ تو اسے اگنی انسانوں کے میگوں کی حفاظت کرنے والی ہے اور دیوتاؤں کی پیغمبر ہے۔ آج یہاں دیوتاؤں کو جو اور کی کو صبح اٹھتے ہیں اور سورج کا دھیان کرتے ہیں لا۔ اے اسونوں دیوتاؤ تم صبح کے یگ کے واسطے جا گو۔ ایسا ہو کہ وہ دونوں دیوتا سوم کا رس پینے کے لئے یہاں آویں۔ ہم دونوں اسونوں کو جو دونوں دیوتا ہیں اور نہایت اچھے رتھ بان ہیں اور ایک عمدہ گاڑی میں سوار ہوتے ہیں اور سرگ تک پہنچتے ہیں بلاتے ہیں۔ اے اسونوں دیوتا ؤ اپنی چابک سے جو کہ تمہارے گھوڑوں کی جھاگوں سے تر ہے اور اس کی بخار سے بڑی آواز ہوتی ہے سوم کے ارگ کو ہلا دو۔ اے اسونوں دیوتا ؤ ارگ چھر چنی والے کے رہنے کی جگہ جہاں تم اپنی رتھے میں سوار ہو کر جاتے ہو تم سے دور نہیں ہے۔ میں سونے کے ہاتھ والے سورج کو اپنی حفاظت کے لئے بلاتا ہوں وہ پوجاریوں کا درجہ مقرر کرتا ہے سورج کی جو پانی کا مددگار نہیں ہے ہماری حفاظت کے لئے تعریف کرو۔ ہم اس کی پوجا کرنے کے لئے آرزور کھتے ہیں۔ دوستو بیٹھ جاؤ ۔ در حقیقت ہم سورج کی تعریف کریں گے کیونکہ وہ در حقیقت دولت کا بخشنے والا ہے۔ عاقل ہمیشہ سورج کے اس بڑے درجہ کا دھیان کرتے ہیں جب سے آنکھ آسمان کی سیر کرتی ہے۔ دانا آدمی جو کہ ہوشیار رہتے ہیں اور تعریف کرنے میں بڑے سرگرم