براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 482
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۸۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم تو یک طرف رہے ۔ ایک ادنی مکھی بھی ( جو حقیر اور ذلیل اور مکر وہ جانور ہے ) (۴۰۲) اس قانون قدرت سے باہر نہیں ۔ تو پھر نعوذ باللہ کیا یہ گمان ہو سکتا ہے کہ خدا کا کلام کہ جو اس کی ذات کی طرح مقدس اور کمال رنگ سے رنگین چاہئے ۔ ایسا حاشیه نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ نہیں محصور ہرگز راستہ قدرت نمائی کا خدا کی قدرتوں کا حصر دعوی ہے خدائی کا جاننا چاہئے کہ جو امر غیر محدود اور غیر محصور ہے وہ کسی قانون کے اندر آ ہی نہیں سکتا ۔ کیونکہ جو چیز اول سے آخر تک قواعد معلومہ مفہومہ کے سلسلہ کے اندر داخل ہو اور کوئی جز سے اس طرح پر پانی بہہ نکلا جیسے شیر دار گائے کا پستان دبانے سے دودھ بہ نکلتا ہے۔ تو وہ تلازم جس کا بیان کرنا مقصود تھا وہ بھی قائم رہتا اور تشبیہ بھی نہایت مطابق آجاتی ۔ ماسوا اس کے کسی طبیعت کو اس تشبیہ سے نفرت بھی نہیں کیونکہ ہند ولوگ بھی بلا دغدغہ گائے کا دودھ پی لیتے ہیں۔ قطع نظر ان سب باتوں کے ایسے شاعرانہ تلازمات میں ہماری بحث ہی نہیں اور قرآن شریف کے سامنے ان لغویات کا ذکر کرنا ایک بیہودہ حرکت اور ناحق کی درد سر ہے۔ جس بلاغت حقیقی کو قرآن شریف پیش کرتا ہے وہ تو ایک دوسرا ہی عالم ہے جس سے لغو اور جھوٹ اور بیہودہ باتوں کو کچھ بھی تعلق نہیں بلکہ حکمت اور معرفت کے بے انتہا دریا کو اقل اور اول عبارت میں بالتزام فصاحت و بلاغت بیان کیا ہے اور جمیع دقائق الہیات پر احاطہ کر کے ایسا کمال دکھلایا ہے جس سے انسانی قوتیں عاجز ہیں۔ لیکن وید کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کیا تحریر میں لاویں جس میں بجائے حقائق و معارف کے طرح طرح کے گمراہ کرنے والے مضمون موجود ہیں۔ کر وڑ ہا بندگان خدا کو مخلوق پرستی کی طرف کس نے جھکایا ؟ وید نے ۔ آریوں کو صد با دیوتاؤں کا پرستار کس نے بنایا ؟ وید نے ۔ کیا اس میں کوئی ایسی شرتی بھی ہے جو کہ صاف صاف اور واشگاف طور پر مخلوق پرستی سے منع کرے، اور سورج چاند وغیرہ کی پرستش سے رو کے اور ان تمام شرتیوں کو جو مخلوق پرستی کی تعلیم پر مشتمل ہیں محل اعتراض ٹھہرا دے۔ کوئی بھی نہیں۔ پھر وہ بلاغت