براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 481 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 481

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۷۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم اور اس کی صفات کا حلیہ لکھنے کو بیٹھ جاتے ہیں۔ ورنہ اگر انسان ذرا بھی آنکھ کھول کر ہر یک طرف نظر ڈالے تو عادت اللہ کسی ایک یا دو چیز میں محصور نہیں اور نہ ایسی پوشیده (۴۰۱) ہے جس کا سمجھنا مشکل ہو بلکہ یہ بات اصلی بدیہات ہے کہ جواہر لطیفہ اور مصنوعات عالیہ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ قدرت کا ملہ کے مفہوم سے بکلی منافی ہے کیونکہ ربوبیت تامہ اور قدرت کا ملہ وہ ہے (۴۰۱) کہ جو اس ذات غیر محدود کی طرح غیر محدود ہے اور کوئی انسانی قاعدہ اور قانون اس پر احاطہ نہیں کر سکتا ۔ لوگوں کو دیتے تھے مگر حال کے آریا لوگ ہر گز اس کے قائل نہیں ۔ اب ظاہر ہے کہ کلام میں ایسی تشبیہ بیان کرنا جس کا خارج میں وجود ہی نہیں بلکہ جس سے لوگ متنفر ہیں دائرہ فصاحت بلاغت سے بالکل خارج ہے۔ اگر ایک لڑکا بھی اپنے کلام میں ایسی تشبیہ بیان کرے تو وہ 2 دانشمندوں کے نزدیک قابل ملامت اور سادہ لوح ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ تشبیہ کا لطف تب ہی ظاہر ہوتا ہے کہ جب مشابہت ایسی ظاہر ہو کہ جس چیز سے تشبیہ دی گئی ہے سامعین اس سے بخوبی واقفیت رکھتے ہوں اور ان کی نظر میں وہ چیز بدیہی الظہور اور مسلم الوجود ہو ۔ اور نیز ان کی طبیعتیں بھی اس کے ذکر سے کراہت نہ کرتی ہوں لیکن کون ثابت کر سکتا ہے کہ وید کے زمانہ میں ہندوؤں میں گائے کا گوشت بیچنا اور خریدنا اور کھانا ایک عام رواج تھا جس سے آریا قوم کو نفرت نہ تھی۔ اور اگر یہ بھی خیال کیا جائے کہ خود وید کا ہی ذکر کرنا اس رواج پر ثبوت ہے تو ایسا خیال کرنے سے بھی بکلی اعتراض مرتفع نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ گائے کے لہو اور گوشت سے پانی کو عمدہ مشابہت حاصل نہیں ۔ ہاں گائے کے دودھ کو مصفا پانی سے مشابہت حاصل ہے۔ سو اگر مثلا رگ وید سنتا اشک اول سکت ۶۱ کی یہ شرقی جس میں یہ لکھا ہے اے اند رورتر اپر اپنا بجر چلا اور اسے ایسا ٹکڑے ٹکڑے کر جیسے بو چڑ گائے کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے۔ اس طرح پر ہوتے کہ جب اندر نے اپنے بجر سے ورتر ا کو دبایا۔ تو اس میں