براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 477
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۷۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم متواتر تجربہ سے ایک چیز کی کوئی خاصیت معلوم ہوگئی تو پھر مجرد قیاس کو اپنی دستا ویز بنا کر اس امر واقعی سے جو بہ پایہ ثبوت پہنچ چکا ہے ۔ انکار کرنا اسی کا نام جنون اور سودا ہے ۔ اگر یہ لوگ عقل خدا داد کو ذرا کام میں لا دیں ۔ تو ان پر بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ خدا کا رب العالمین ہونا کہ جو ر بو بیت تامہ سے مراد ہے بر ہمو لوگوں کی سمجھ اور عقل سے اب تک چھپا ہوا ہے اور وہ لوگ ربوبیت الہیہ کا دنیا پر اس سے زیادہ اثر نہیں سمجھتے کہ اس نے کسی وقت یہ تمام عالم معہ اس کی تمام قوتوں اور طاقتوں کے پیدا کیا (۳۹۸) ہے ۔ لیکن اب وہ تمام قو تیں اور طاقتیں مستقل طور پر اپنے اپنے کام میں لگی خارج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے عرب کے نامی شاعروں کو کہ جن کی عربی مادری زبان تھی اور جوطبیعی طور پر اور نیز کسی طور پر مذاق کلام سے خوب واقف تھے مانا پڑا کہ قرآن شریف انسانی طاقتوں سے بلند تر ہے اور کچھ عرب پر موقوف نہیں بلکہ خود تم میں سے کئی اندھے تھے کہ جو اس کامل روشنی سے بینا ہو گئے اور کئی بہرے تھے کہ اس سے سننے لگ گئے اور اب بھی وہ روشنی چاروں طرف سے تاریکی کو اٹھاتی جاتی ہے اور قرآن شریف کے انوار حقہ دلوں کو منور کرتے جاتے ہیں ۔ واقعی یہ حال ہو رہا ہے کہ جس قدر لوگوں کی آنکھیں کھلتی جاتی ہیں۔ اسی قدر قرآن شریف کی عظمت کے قائل ہوتے جاتے ہیں۔ چنانچہ بڑے بڑے متعصب انگریزوں میں سے جو کہ حکیم اور فلاسفر کہلاتے تھے خود بول اٹھے کہ قرآن شریف اپنی فصاحت اور بلاغت میں بے نظیر ہے یہاں تک کہ گادفری ہیکنس * صاحب جیسے سرگرم عیسائی کو اپنی کتاب کی دفعہ ۲۲۱ میں لکھنا پڑا کہ حقیقت میں جیسی عالی عبارتیں قرآن میں پائی جاتی ہیں۔ اس سے زیادہ غالبا دنیا بھر میں نہیں مل سکتیں۔ اور ایساہی یوٹ صاحب کو مجبوری اپنی کتاب میں یہی گواہی دینی پڑی۔ ۔ آریا سماج والے جو خدا کے الہام اور کلام کو دید پرختم کئے بیٹھے ہیں وہ بھی عیسائیوں کی طرح قرآن شریف کی بے نظیری سے انکار کر کے اپنے وید کی نسبت (۳۹۸ سہو کتابت ہے۔ صحیح گاڈفری میگنس (GODFREY HIGGINS) ہے۔ ناشر سہو کتابت ہے۔ سی پورٹ ( جان ڈیون پورٹ JOHN DAVENPORT) ہے۔ ناشر