براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 476
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۷۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم اور حقائق دقیقہ کلام الہی کے جو ہم نے اس کتاب میں اپنے موقعہ پر کمال وضاحت سے لکھے ہیں بنظر تائل و تیقظ مشاہدہ کریں تو ان کا خیال فاسد ایسا دور ۳۹۷ ہو جائے گا جیسا کہ آفتاب کے نکلنے سے تاریکی دور ہو جاتی ہے ۔ اور ظاہر ہے که امر محسوس اور مشہود کے مقابلہ پر کسی قیاس کی پیش نہیں جاتی ۔ جس ۳۹۷ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ دائگی اور کامل جزا دینے پر قادر ہے۔ جب اب ہم یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بر ہمو سماج والوں کا معارف مذکورہ بالا کی نسبت کیا حال ہے یعنی وہ ہر چہار صداقتیں کہ جو ا بھی مذکور ہوئی ہیں ۔ برہمو لوگ ان پر ثابت قدم ہیں یا نہیں۔ سو واضح ہو کہ پر ہمو لوگ ان چاروں صداقتوں پر جیسا کہ چاہئے ثبات اور قیام نہیں رکھتے بلکہ ان معارف عالیہ کے کامل مفہوم پر ان کو اطلاع ہی نہیں ۔ اول کافروں کے لئے طیار کی گئی ہے۔ پھر میں مکر رکہتا ہوں کہ قبل اس کے جو تم لوگ اس فکر میں پڑو کہ قرآن شریف کے مثل و مانند کوئی دوسرا کلام تلاش کیا جائے۔ اول تم کو اس بات کا دیکھ لینا نہایت ضروری ہے کہ اس دوسری کلام نے وہ دعوی بھی کیا ہے یا نہیں جس دعوی کو آیات مذکورہ بالا میں ابھی تم سن چکے ہو۔ کیونکہ اگر کسی متکلم نے ایسا دعوی ہی نہیں کیا کہ میرا کلام بے مثل و مانند ہے جس کے مقابلہ اور معارضہ سے فی الحقیقت تمام جن وانس عاجز و ساکت ہیں تو ایسے متکلم کے کلام کو خواہ نخواہ بے مثل و مانند سمجھ لینا حقیقت میں اسی مثل مشہور کا مصداق ہے کہ مدعی ست و گواہ چست۔ ماسوا اس کے کسی کلام کو قرآن شریف کی نظیر اور شبیہ ٹھہرانے میں اس بات کا ثبوت بھی پیدا کر لینا چاہئے کہ جن کمالات ظاہری و باطنی پر قرآن شریف مشتمل ہے۔ انہیں کمالات پر وہ کلام بھی اشتمال رکھتا ہے جس کو بطور نظیر پیش کیا گیا ہے۔ کیونکہ اگر نظیر پیش کردہ کو کمالات قرآنیہ سے کچھ بھی حصہ حاصل نہیں تو پھر ایسی نظیر پیش کرنا بجز اپنی جہالت اور حماقت دکھلانے کے کس غرض پر مبنی ہوگا۔ یہ بات خوب یا درکھو کہ جیسے ان تمام چیزوں کی نظیر اور شبیہہ بنانا کہ جو صادر من اللہ ہیں غیر ممکن اور ممتنع ہے۔ ایسا ہی قرآن شریف کی نظیر بنانا بھی حدامکان سے