براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 474
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۷۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم اور وہ یہ ہے کہ کتب الہا میہ کم علموں اور کم فہموں یا امتیوں اور بدوؤں کے لئے (۳۹۵) نازل ہوئی ہیں ۔ پس ان کی تعلیم ویسی ہی چاہئے جو کہ بقد ر عقول ان لوگوں کے ہو کیونکہ امی اور نا خواندہ آدمی نکات دقیقہ سے منتفع نہیں ہو سکتے ۔ اور نہ ان پر مطلع ہو سکتے ہیں ۔ لیکن واضح ہو کہ یہ وہم محض کو نہ اندیشی سے ان کے دلوں کو ۳۹۵ ۳۹۵ "1 بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ اسی دنیا میں اپنے نفس امارہ کی خواہشوں کے پورا کرنے میں اس دولت کو خرچ کرے۔لیکن ظاہر ہے کہ اسی جہان میں خدائے تعالی کا کسی کو اس غرض سے دولت دینا کہ وہ اس دولت کو فی الحقیقت اپنے اعمال کی جزاء سمجھ کر کھانے پینے اور ہر طرح کی عیاشی کے لئے آلہ بنادے۔ یہ ایک ایسا نا جائز فعل ہے کہ جس کو خدائے تعالی کی طرف نسبت کرنا نہایت درجہ کی بے ادبی ہے ۔ کیونکہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ گویا ہندوؤں کا پر میٹر آپ ہی لوگوں کو بد فعلی اور پلیدی میں ڈالنا چاہتا ہے۔ اور قبل اس کے جو ان کا نفس پاک ہو نفسانی لذات کے وسیع دروازے ان پر کھولتا ہے۔ اور پہلے جنموں کے نیک عملوں کا اجر ان کو یہ دیتا ہے کہ پچھلے جنم میں وہ ہر طرح کے اسباب تنعم پا کر اور نفس امارہ کے پورے پورے تابع بن کر پھر تحت الثریٰ میں اقرار کروایا۔ اب آپ لوگوں کی آنکھوں میں وہی قرآن حریری اور فیضی کے واہیات کلام سے برابر نہیں ۔ یہ بڑا کفر خدا کو نہیں بھاتا۔ اگر آپ لوگ کوئی نظیر قرآن شریف کی اس کے ظاہری و باطنی کمالات میں ثابت کر دکھاتے تو پھر جھگڑا ہی کیا تھا۔ پر آپ تو ایسی نظیر پیش کرنے سے بکلی عاجز اور ساکت ہیں پھر معلوم نہیں کہ تم آنکھیں رکھتے ہوئے کیوں نہیں دیکھتے۔ کان رکھتے ہوئے کیوں نہیں سنتے ۔ دل رکھتے ہوئے کیوں نہیں سمجھتے۔ اگر حریری اور فیضی تم سے ہی عاقل ہوتے تو وہ آپ ہی دعوی کرتے کہ ہم نے قرآن شریف کی نظیر بنالی ہے ۔ پر خدا نہ کرے کہ کسی لکھے پڑھے آدمی کی ایسی پست عقل ہو۔ بھلا تم آپ ہی بتلاؤ کہ وہ کون سا کلام تمہاری بغل میں ہے جس میں قرآن شریف کی طرح یہ دعویٰ موجود ہے قُل نَّبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ