براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 470
روحانی خزائن جلد 1 ٤٦٨ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۹۱ ہیں ۔ تو اسے قانون قدرت کی متابعت سے یہ بھی ہر یک عاقل کو ماننا پڑا کہ خدا بقیه حاشیه نمبرا ۳۹۲ کا کلام بھی نکات دقیقہ سے خالی نہیں ہونا چاہئے ۔ بلکہ اس میں سب سے زیادہ لطائف چاہئیں ۔ کیونکہ وہ خدا کا کلام ہے ۔ اور حکیم مطلق کے علوم قدیم کا مخزن ہے جس کو خدا نے اس بات کا آلہ بنایا ہے کہ تمام قوانین قدرتیہ جو اقرار سے عاجز اور ناتواں ہے ۔ مگر پھر بھی عیسائیوں کے بے بنیا د زعم میں قادر مطلق ہے اور عاجز نہیں ۔ اور باد ا۔ اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے امور غیبیہ کے بارہ میں نادان محض ہے یہاں تک کہ قیامت کی بھی خبر نہیں کہ کب آئے گی مگر پھر بھی نصرانیوں کے خوش عقیدہ کے رو سے عالم الغیب ہے۔ اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے اور نیز صحف انبیاء کی گواہی سے ایک مسکین بندہ ہے مگر پھر بھی حضرات مسیحیوں کی نظر میں خدا ہے ۔ اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے نیک اور بے گناہ نہیں ہے مگر پھر بھی عیسائیوں کے خیال میں نیک اور بے گناہ ہے۔ غرض عیسائی قوم بھی ایک عجیب قوم ہے جنہوں نے ضدین کو جمع کر دکھایا اور تناقض کو جائز سمجھ لیا۔ اور گوان کے اعتقاد کے قائم ہونے سے مسیح کا درونگو ہونا لازم آیا ۔ مگر انہوں نے اپنے اعتقاد کو نہ چھوڑا ۔ ایک ذلیل اور عاجز اور نا چیز بندہ کو رب العالمین قرار دیا ۔ اور رب العالمین پر ہر طرح کی ذلت اور موت اور درد اور دکھ اور تجسم اور حلول اور تغیر اور تبدل اور حدوث اور تولد کو روا رکھا ہے ۔ نادانوں نے خدا کو بھی ایک کھیل بنا لیا ہے ۔ عیسائیوں پر کیا حصر ہے ان سے پہلے کئی عاجز بندے خدا قرار دیئے گئے ہیں ۔ کوئی کہتا ہے رام چندر خدا ہے ۔ کوئی کہتا ہے نہ کر سکیں ۔ وہ تو بغیر فضول گوئی کے بول ہی نہیں سکتے ۔ اور ان کی ساری گل فضول اور جھوٹ پر ہی چلتی ہے۔ اگر جھوٹ نہیں یا فضول گوئی نہیں تو پھر شعر بھی نہیں ۔ اگر تم ان کا فقرہ فقرہ تلاش کرو کہ کس قدر حقائق دقائق ان میں جمع ہیں ۔ کس قدر راستی اور صداقت کا التزام ہے۔ کس قدر حق اور حکمت پر قیام ہے۔ کسی ضرورت حقہ سے وہ باتیں ان کے مونہہ سے نکلی ہیں اور کیا کیا اسرار بے مثل و مانند ان میں لیٹے ہوئے ہیں تو تمہیں معلوم ہو کہ ان تمام خوبیوں میں سے کوئی بھی خوبی ان کی مردہ عبارات میں پائی نہیں جاتی۔ ان کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ جس طرف قافیہ ردیف ملتا نظر آیا اسی طرف جھک ۳۹۲ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳