براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 466 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 466

روحانی خزائن جلد 1 ۴۶۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۸۸ جاننا چاہئے کہ خدا نے انسان کو خدا نے انسان کو دوسرے حیوانات کی طرح اس وضع فطرت پر ۳۸۸ ۳۸۸ پیدا نہیں کیا ۔ کہ اس کا علم چند بدیہی اور محسوس باتوں میں محصور اور محد و در ہے ۔ رہے۔ بلکہ اس کو یہ استعداد بخشی ہے کہ وہ نظر اور فکر سے غیر متناہی علوم میں ترقیات کرتا رہے ۔ اور اسی غرض سے اس کو عقل کا گوہر شب چراغ جو دوسرے حیوانات بقیه حاشیه نمبر ا ا 11 بقيه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ اور اس قانون میں مختارانہ تصرف کرنے سے خدائے تعالیٰ قاصر اور عاجز ہے۔ گویا اس کے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے ہیں نہ اس قاعدہ کے برخلاف کچھ ایجاد کر سکتا ہے اور نہ فنا کر سکتا ہے بلکہ جب سے کہ اس نے اس عالم کا ایک خاص طور پر شیرازہ باندھ کر اس کی پیدائش سے فراغت پالی ہے تب سے یہ کل اپنے ہی پرزوں کی صلاحیت کی وجہ سے خود بخود چل رہی ہے اور رب العالمین کسی قسم کا تصرف اور دخل اس کل کے چلنے میں نہیں رکھتا ۔ اور نہ اس کو اختیار ہے کہ اپنی مرضی کے موافق اور اپنی خوشنودی نا خوشنودی کے رو سے اپنی ربوبیت کو بہ تفاوت مراتب ظاہر کرے یا اپنے ارادہ خاص سے کسی طور کا تغیر اور تبدل کرے بلکہ یہودی لوگ خدائے تعالیٰ کو جسمانی اور مجسم قرار دے کر عالم جسمانی کی طرح اور اس کا ایک جز سمجھتے ہیں۔ اور ان کی نظر ناقص میں یہ سمایا ہوا ہے کہ بہت سی باتیں کہ جو مخلوق پر جائز ہیں وہ خدا پر بھی جائز ہیں اور اس کو من کل الوجوہ منزہ خیال نہیں کرتے ۔ اور ان کی توریت میں جو محترف اور مبدل ہے خدائے تعالیٰ کی نسبت کئی طور کی بے ادبیاں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ پیدائش کے ۳۲ باب میں لکھا ہے کہ خدائے تعالیٰ یعقوب سے تمام رات صبح تک کشتی لڑا گیا ۔ اور اس پر غالب نہ ہوا اسی طرح برخلاف اس اصول کے کہ خدائے تعالیٰ ہر یک مافی العالم کا رب ہے۔ بعض مردوں کو انہوں نے خدا کے بیٹے قرار دے رکھا ہے۔ اور کسی جگہ شفا حاصل ہوتی ہے ۔ حقائق اور دقائق کا جاننا حق کے طالبوں پر آسان ہوتا ہے ۔ کیونکہ خدا کا فصیح کلام معارف حقہ کو کمال ایجاز سے ، کمال ترتیب سے ، کمال صفائی اور خوش بیانی سے لکھتا ہے اور وہ طریق اختیار کرتا ہے جس سے دلوں پر