براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 465 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 465

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۶۳ براہین احمدیہ حصہ چہارم مصنوعات میں اور ہر یک چیز میں جو اس کی طرف سے صادر ہو ۔ قانون قدرت یہی ۳۸۷) ہے کہ اس نے عجائبات بدیہہ پر کفایت نہیں کی ۔ بلکہ ہر یک چیز میں (جو اس کے دست قدرت سے ظہور پذیر ہے ) عجائبات دقیقہ بھی ( جو نہایت گہرے اور عمیق ہیں ) مخفی رکھے ہیں ۔ مگر خدا کے اس کام کو عبث اور بے سود سمجھنا سراسر نادانی ہے۔ ان صداقتوں پر قائم نہیں اور جو شخص کسی ایسی قوم کے وجود کا دعوی کرے تو بار ثبوت اس کے ذمہ ہے۔ ماسوا اس کے قرآنی شہادت کہ جو ہر یک دوست و دشمن میں شائع ہونے کی وجہ سے ہر یک مخاصم پر حجت ہے اس بات کے لئے ثبوت کافی ہے اور وہ شہادتیں جابجا فرقان مجید میں بکثرت موجود ہیں۔ اور خود کسی تاریخ دان اور واقف حقیقت کو اس سے بے خبری نہیں ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت تک ہر ایک قوم کی ضلالت اور گمراہی کمال کے درجہ تک پہنچ چکی تھی اور کسی صداقت پر کامل طور پر ان کا قیام نہیں رہا تھا۔ چنانچہ اگر اول یہودیوں ہی کے حال پر نظر کریں تو ظاہر ہوگا کہ ان کو خدائے تعالیٰ کی ربوبیت تامہ میں بہت سے شک اور شبہات پیدا ہو گئے تھے اور انہوں نے ایک ذات رب العالمین پر کفایت نہ کر کے صدہا ارباب متفرقہ اپنے لئے بنارکھے تھے یعنی مخلوق پرستی اور دیوتا پرستی کا بغایت درجہ ان میں بازار گرم تھا۔ جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال قرآن شریف میں بیان کر کے فرمایا ہے۔ اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِن دُونِ اللہ ہے یعنی یہودیوں نے اپنے مولویوں اور درویشوں کو کہ جو مخلوق اور غیر خدا ہیں، اپنے رب اور قاضی الحاجات ٹھہرا رکھے ہیں۔ اور نیز اکثروں کا یہودیوں میں سے بعض نیچریوں کی طرح یہ اعتقاد ہو گیا تھا کہ انتظام دنیا کا قوانین منضبطہ متعینہ پر چل رہا ہے۔ واليبتُ لِلطَّيِّبين سے خدا کے کلام کو اس طرح پر بے نقط سمجھنا چاہئے کہ و و لغو اور جھوٹ اور بیہودہ گوئی کے نقطوں سے منزہ اور معرا ہے اور اس کی فصاحت بلاغت وہ بے بہا جو ہر ہے جس سے دنیا کو فائدہ پہنچتا ہے ۔ روحانی بیماریوں سے بقیه حاشیه در حاشیه نمبر التوبة: ٣١ ٢ النور : ۲۷