براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 464
براہین احمدیہ حصہ چہارم ۴۶۲ روحانی خزائن جلد ۱ غرائب واضح ہوتے ۔ تا کہ جس غرض کے لئے حکیم مطلق نے بدن انسان میں موڈع کئے تھے وہ غرض حاصل ہو جاتی ۔ سو اس وہم کا جواب اور اسی قسم کے اور وہموں کا جواب جو مصنوعات الہیہ کے عجائبات اور خواص دقیقہ اور مخفیہ کی نسبت کسی کے دل میں خلجان کریں ۔ یہ ہے کہ بلا شبہ خدا کا اپنے تمام 1 بقیه حاشیه در حاشیه نمبر اور قرآن شریف کے پڑھنے سے معلوم ہو گا کہ ان صداقتوں کی تفصیل میں آیات قرآنی ایک دریا کی طرح بہتی ہوئی چلی جاتی ہیں اور اگر ہم اس جگہ مفصل طور پر ان تمام آیات کو لکھتے تو بہت سے اجزاء کتاب کے اس میں خرچ ہو جاتے سو ہم نے اس نظر سے کہ انشاء اللہ عنقریب براہین قرآنی کے موقعہ پر وہ تمام آیات بہ تفصیل لکھے جائیں گے ان تمہیدی مباحث میں صرف سورۃ فاتحہ کے قَلَّ وَ دَل کلمات پر کفایت کی ۔ اب بعد اس کے ہم بیان کرنا چاہتے ہیں کہ یہ چاروں صداقتیں کہ جو تین الثبوت اور بد سیبی الصدق ہیں۔ ایسے بے نظیر اور اعلیٰ درجہ کے ہیں کہ یہ بات دلائل قطعیہ سے ثابت ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور فرمانے کے وقت یہ چاروں صداقتیں دنیا سے گم ہو چکی تھیں اور کوئی قوم پر دو زمین پر ایسی موجود نہیں تھی کہ جو بغیر آمیزش افراط یا تفریط کے ان صداقتوں کی پابند ہو ۔ پھر جب قرآن شریف نازل ہوا۔ تو اس کلام مقدس نے نئے سرے ان گمشدہ صداقتوں کو زاویہ گمنامی سے باہر نکالا اور گمراہوں کو ان کے حقانی وجود سے اطلاع دی اور دنیا میں ان کو پھیلایا اور ایک عالم کو ان کے نور سے منور کیا ۔ لیکن اس بات کے ثبوت کے لئے کہ کیونکر تمام قو میں ان صداقتوں سے بے خبر اور نا واقف محض تھیں یہی ایک کافی دلیل ہے کہ اب بھی دنیا میں کوئی قوم بجز دین حق اسلام کی ٹھیک ٹھیک اور کامل طور پر لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ - یعنی قرآن حکمت سے پر ہے۔ باطل کو اس کے آگے پیچھے سے گزر نہیں ۔ تو اس صورت میں وہ کیونکر آپ ہی باطل کو اس میں بھر دیتا۔ اس کام کے لئے تو فیضی جیسا ہی کوئی نادان فضول کو چاہئے ۔ الْخَبِيثُتُ لِلْخَبِيثِينَ " لحم السجدة ۴۳ - النور: ۲۷ ۳۸۷ ۳۸۷