براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 460 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 460

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۵۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۸۳ ۳۸۳ درکار ہے ۔ مثلاً آنکھ کی وہ ترکیب جس کے ذریعہ سے دونوں آنکھیں شے واحد کی طرح بالا تفاق کام کرتی ہیں اور ہر ایک چھوٹی بڑی چیز کو دیکھ سکتے ہیں ۔ یا کانوں کی بناوٹ کی وہ طرز جس سے وہ مختلف آوازوں کو بہ حیثیت اختلاف سن سکتے ہیں ۔ یہ وہ امور ہیں جو سرسری نظر سے دریافت نہیں ہو سکتے ۔ بلکہ جو لوگ ماہر فن طبعی و طبابت ہے۔ ایسا ہی مصنوعات صانع حقیقی سے بے علاقہ ہیں ۔ بلکہ وہ رب العالمین اپنی ربوبیت تامہ کی آب پاشی ہر وقت برابر تمام عالم پر کر رہا ہے۔ اور اس کی ربوبیت کا مینہ بالا اتصال تمام عالم پر نازل ہو رہا ہے۔ اور کوئی ایسا وقت نہیں کہ اس کے رفح فیض سے خالی ہو بلکہ عالم کے بنانے کے بعد بھی اس مبدء فیوض کی فی الحقیقت بلا ایک ذرا تفاوت کے ایسی ہی حاجت ہے کہ گویا ابھی تک اس نے کچھ بھی نہیں بنایا اور جیسا دنیا اپنے وجود اور نمود کے لئے اس کی ربوبیت کی محتاج تھی ایسا ہی اپنے بقا اور قیام کے لئے اس کی ربوبیت کی حاجتمند ہے۔ وہی ہے جو ہر دم دنیا کو سنبھالے ہوئی ہے اور دنیا کا ہر ذرہ اسی سے تروتازہ ہے اور وہ اپنی مرضی اور ارادہ کے موافق ہر چیز کی ربوبیت کر رہا ہے۔ یہ نہیں کہ بلا ارادہ کسی شے کے ربوبیت کا موجب ہو۔ غرض آیات قرآنی کی رو سے جن کا خلاصہ ہم بیان کر رہے ہیں اس صداقت کا یہ منشا ہے کہ ہر یک چیز کہ جو عالم میں پائی جاتی ہے وہ مخلوق ہے۔ اور اپنے تمام کمالات اور اپنے تمام حالات اور اپنے تمام اوقات میں خدائے تعالیٰ کی ربوبیت کی محتاج ہے ۔ اور کوئی روحانی یا جسمانی ایسا کمال نہیں ہے جس کو کوئی مخلوق خود بخود اور بغیر ارادہ خاص اس متصرف مطلق کے حاصل کر سکتا ہو اور نیز حسب توضیح اسی کلام پاک کے اس صداقت اور ایسا ہی دوسری ۳۸۳ ہیں ۔ اور رعایت حق اور حکمت اور ضرورت و مصلحت سے بکلی عاری اور خالی ہیں ۔ اور جب انہوں نے صداقت اور ضرورت حقہ کے التزام کو چھوڑ دیا ۔ اور ہر ہر لفظ میں جھوٹ بولنا یا بیہودہ گوئی اختیار کرنا یا لغو اور غیر ضروری طور پر الفاظ کو مونہہ سے نکالنا