براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 459
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۵۷ براہین احمدیہ حصہ چہارم اصول ثابت ہوتا ہے کہ جو عجائب اور غرائب اس نے اپنے مصنوعات میں رکھے (۳۸۲ ) ہیں وہ دوقسم کے ہیں۔ ایک تو عام فہم ہیں ۔ مثلاً سارے لوگ جانتے ہیں کہ انسان کی دو آنکھ اور دوکان ایک ناک اور دو پاؤں وغیرہ اعضاء ہیں ۔ یہ تو وہ امور ہیں کہ جو نظر سرسری سے معلوم ہوتے ہیں ۔ دوسرے وہ امور ہیں جن میں دقت نظر میں انہیں اندھوں کا کام ہے جن کی بصیرت اور بصارت دونوں یکبارگی جاتی رہی ہیں۔ نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر چشم بد اندیش که برکنده باد عیب نماید هنرش در نظر اب ہم پھر تقریر کو دوہرا کر اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ جو کچھ خدائے تعالیٰ نے سورۃ ممدوحہ میں رب العالمین کی صفت سے لے کر مالک یوم الدین تک بیان فرمایا ہے یہ حسب تصریحات قرآن شریف چار عالیشان صداقتیں ہیں جن کا اس جگہ کھول کر بیان کرنا قرین مصلحت ہے۔ پہلی صداقت یہ کہ خدائے تعالیٰ رب العالمین ہے یعنی عالم کے اشیا میں سے جو کچھ موجود ہے سب کا رب اور مالک خدا ہے۔ اور جو کچھ عالم میں نمودار ہو چکا ہے اور دیکھا جاتا ہے یا ٹولا جاتا ہے یا عقل اس پر محیط ہو سکتی ہے وہ سب چیزیں مخلوق ہی ہیں اور ہستی حقیقی بجز ایک ذات حضرت باری تعالی کے اور کسی چیز کے لئے حاصل نہیں۔ غرض عالم بجميع اجزائه متخلوق اور خدا کی پیدائش ہے اور کوئی چیز اجزائے عالم میں سے ایسی نہیں کہ جو خدا کی پیدائش نہ ہو۔ اور خدائے تعالیٰ اپنی ربوبیت تامہ کے ساتھ عالم کے ذرہ ذرہ پر متصرف اور حکمران ہے اور اس کی ربوبیت ہر وقت کام میں لگی ہوئی ہے۔ یہ نہیں کہ خدائے تعالی دنیا کو بنا کر اس کے انتظام سے الگ ہو بیٹھا ہے اور اسے نیچر کے قاعدہ کے ایسا سپرد کیا ہے کہ خود کسی کام میں دخل بھی نہیں دیتا۔ اور جیسے کوئی کل بعد بنائے جانے کے پھر بنانے والے سے بے علاقہ ہو جاتی انسانوں کی کتابوں کو دیکھنا چاہیے کہ کیونکر وہ جھوٹ اور ہنرل اور بیہودگی سے بھری ہوئی ہیں (۳۸۲ اور (۳۸۴) اور کیونکر غیر ضروری اور فضول طور پر ان کی عبارتیں لکھی گئی ہیں ۔ اور ان کو ہرگز میسر نہیں آیا کہ الفاظ کو معانی مقصودہ کے تابع کریں بلکہ ان کے معانی الفاظ کے پیچھے بہکتے پھرتے