براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 457 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 457

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۵۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم پس کیونکر ممکن تھا کہ حکیم مطلق صرف ایک ہی بولی سے پیار کر کے قاعدہ وضع الشيء في موضعه کی رعایت نہ کرتا اور طبائع مختلفہ کے لئے جو مصلحت عامہ تھی ، اس کو ترک کر دیتا۔ کیا مناسب تھا کہ وہ جُدا جُدا طبیعتوں کے لوگوں کو ایک ہی بولی کے تنگ (۳۸۱ پنجرہ میں قید کر دیتا۔ علاوہ اس کے انواع و اقسام کی بولیوں کے بنانے میں ظہور میں نہیں آسکتی۔ چنانچہ اسی کی طرف دوسری جگہ بھی اشارہ فرما کر کہا ہے ۔ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ بے یعنی اس دن ربوبیت الہیہ بغیر توسط اسباب عادیہ کے اپنی تجلی آپ دکھائے گی۔ اور یہی مشہود اور محسوس ہوگا کہ بجز قوت عظمی اور قدرت کاملہ حضرت باری تعالی کے اور سب بیچ ہیں ۔ تب سارا آرام و سرور اور سب جزا اور پاداش بنظر صاف و صریح خدا ہی کی طرف سے دکھلائی دے گا اور کوئی پر وہ اور حجاب درمیان نہیں رہے گا اور کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں رہے گی جب جنہوں نے اس کے لئے اپنے تئیں منقطع کر لیا تھا وہ اپنے تئیں ایک کامل سعادت میں دیکھیں گے کہ جو ان کے جسم اور جان اور ظاہر اور باطن پر محیط ہو جائے گی اور کوئی حصہ وجود ان کے کا ایسا نہیں ہو گا کہ جو اس سعادت عظمی کے پانے سے بے نصیب رہا ہو۔ اور اس جگہ مالک یوم الدین کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس روز راحت یا عذاب اور لذت یا ۳۸۱) بقیه حاشیه در حاشیه نمد درد جو کچھ بنی آدم کو پہنچے گا اس کا اصل موجب خدائے تعالی کی ذات ہوگی اور مالک امر مجازات کا حقیقی طور پر وہی ہوگا یعنی اس کا وصل یا فصل سعادت ابدی یا شقاوت ابدی کا موجب ٹھہرے گا ۔ اس طرح پر کہ جو لوگ اس کی ذات پر ایمان لائے تھے اور توحید اختیار کی تھی ۔ اور اس کی خالص محبت سے اپنے دلوں کو رنگین کر لیا تھا ان پر انوار رحمت اس اور کوئی لفظ نہیں کہ لغو طور پر تحریر پایا ہو ۔ اور پھر با وصف التزام ان سب امور کے فصاحت کا وہ مرتبہ کامل دکھلایا جس سے زیادہ تر متصور نہیں ۔ اور بلاغت کو اس کمال تک (۳۸۱ پہنچایا کہ کمال حسن ترتیب اور موجز اور مدلل بیان سے علم اولین اور آخرین ایک المؤمن:۱۷