براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 449 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 449

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۴۷ براہین احمد به بعض نادان آریا ایک سنسکرت کو پر میشر کی بولی ٹھہرا کر دوسری تمام بولیاں جو صد با عجائب اور غرائب صنع باری سے بھری ہوئی ہیں انسان کا ایجا د قرار دیتے (۳۷۴ ہیں ۔ گویا انسان کے ہاتھ میں بھی ایک قسم کی خدائی ہے کہ پر میشر نے تو صرف طرح طرح کی پوشیدنی چیز میں اور ہدایت پانے کے لئے مصحف ربانی موجود ہیں اور کوئی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ یہ تمام چیزیں میرے عملوں کی برکت سے پیدا ہو گئیں ہیں اور میں نے ہی کسی پہلے جنم میں کوئی نیک عمل کیا تھا جس کی پاداش میں یہ بے شمار نعمتیں خدا نے بنی آدم کو عنایت کیں۔ پس ثابت ہے کہ یہ فیضان جو ہزار ہا طور پر ذی روحوں کے آرام کے لئے ظہور پذیر ہورہا ہے یہ عطیہ بلا استحقاق ہے جو کسی عمل کے عوض میں نہیں فقط ربانی رحمت کا ایک جوش ہے تا ہر یک جاندار اپنے فطرتی مطلوب کو پہنچ جائے اور جو کچھ اس کی فطرت میں حاجتیں ڈالی گئیں وہ پوری ہو جائیں۔ پس اس فیضان میں عنایت از لیہ کا کام یہ ہے کہ انسان اور جمیع حیوانات کی ضروریات کا تعہد کرے اور ان کی بائیست اور نا بائیست کی خبر رکھے تا وہ ضائع نہ ہو جائیں اور ان کی استعدادیں حیز کتمان میں نہ رہیں اور اس صفت فیضانی کا خدائے تعالی کی ذات میں پایا ۳۷۴ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر جانا قانون قدرت کے ملاحظہ سے نہایت بدیہی طور پر ثابت ہورہا ہے کیونکہ کسی عاقل کو اس میں کلام نہیں کہ جو کچھ چاند اور سورج اور زمین اور عناصر وغیرہ ضروریات دنیا میں پائی جاتی ہیں جن پر تمام ذی روحوں کی زندگی کا مدار ہے اسی فیضان کے اثر سے ظہور پذیر ہیں اور ہر یک متنفس بلا تمیز انسان و حیوان و مومن و کافرو نیک و بد حسب حاجت اپنے ان فیوض مذکورہ بالا سے مستفیض ہو رہا ہے اور کوئی ذی روح اس سے محروم نہیں اور اس فیضان کا نام قرآن شریف میں رحمانیت ہے اور اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ سواب تم چاند پر خاک مت ڈالو ایسا نہ ہو کہ وہ الٹ کر تمہاری ہی آنکھوں پر گر پڑے۔ بعض عیسائی انجیل کو بطور نظیر پیش کرنے سے نا امید ہو کر فیضی کی موارد القلم پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فیضی کی یہ کتاب ساری بے نقط ہے اس لئے وہ بھی اپنی فصاحت بلاغت ۳۷۴ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” مواردالکلم “ ہونا چاہیے۔(ناشر)