براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 448 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 448

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۴۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۷۳ " ۳۷۳ بولی سیکھنے کی کچھ بھی ضرورت نہیں۔ اور خدائے تعالیٰ کہ جو حکیم مطلق ہے۔ بغیر ضرورت کے کوئی کام نہیں کرتا اور عبث اور بے فائدہ طریقوں کو خواہ مخواہ لازم نہیں پکڑتا۔ اور فیضان اعم میں یہ فرق ہے کہ فیضان اعم تو ایک عام ربوبیت ہے جس کے ذریعہ سے کل کائنات کا ظہور اور وجود ہے اور یہ فیضان جس کا نام فیضان عام ہے۔ یہ ایک خاص عنایت از لیہ ہے جو جانداروں کے حال پر مبذول ہے یعنی ذی روح چیزوں کی طرف حضرت باری کی جو ایک خاص توجہ ہے، اس کا نام فیضان عام ہے۔ اور اس فیضان کی یہ تعریف ہے کہ یہ بلا استحقاق اور بغیر اس کے کہ کسی کا کچھ حق ہو سب ذی روحوں پر حسب حاجت ان کے جاری ہے۔ کسی کے عمل کا پاداش نہیں۔ اور اس فیضان کی برکت سے ہر یک جاندار جیتا جاگتا کھاتا ، پیتا اور آفات سے محفوظ اور ضروریات سے متمتع نظر آتا ہے اور ہر یک ذی روح کے لئے تمام اسباب زندگی کے جو اس کے لئے یا اس کے نوع کے بقا کے لئے مطلوب ہیں میسر نظر آتے ہیں اور یہ سب آثار اسی فیضان کے ہیں کہ جو کچھ روحوں کو جسمانی تربیت کے لئے درکار ہے۔ سب کچھ دیا گیا ہے۔ اور ایسا ہی جن روحوں کو علاوہ جسمانی تربیت کے روحانی تربیت کی بھی ضرورت ہے یعنی روحانی ترقی کی استعد اور کھتے ہیں۔ ان کے لئے قدیم سے عین ضرورتوں کے وقتوں میں کلام الہی نازل ہوتا رہا ہے۔ غرض اسی فیضانِ رحمانیت کے ذریعہ سے انسان اپنی کروڑ ہا ضروریات پر کامیاب ہے۔ سکونت کے لئے سطح زمین ۔ روشنی کے لئے چاند اور سورج ۔ دم لینے کے لئے ہوا ۔ پینے کے لئے پانی ۔ کھانے کے لئے انواع اقسام کے رزق ۔ اور علاج امراض کے لئے لاکھوں طرح کی ادویہ۔ اور پوشاک کے لئے صاحبو! اب بے نظیری و حقانیت قرآن شریف با لکل کھل گئی ہے ۔ تمہارے چھپانے سے چھپ نہیں سکتی۔ جیسے تم دیکھتے ہو کہ موسم کے آنے سے پھلوں کو نکلنے اور پکنے سے کوئی روک نہیں سکتا ۔ ایسا ہی اب صداقت قرآنی کے ظاہر ہونے کا وقت آگیا ہے بقیه حاشیه در حاشیه نمبر