براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 447
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۴۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم قیه حاشیه نمبر ا ا کروڑ ہا انسانوں کو طرح طرح کی بولیاں عطا کر کے دوسرے لوگوں کے لئے ﴿۳۷۲ عام تعلیم کا دروازہ کھول دیا ہے ۔ تو اس صورت میں بجز اس صورت خاص کے کہ جس میں کوئی نشان ظاہر کرنا منظور ہو اور سب صورتوں میں بطور الہام چارطور پر فیضان پایا جاتا ہے۔ جو غور کرنے سے ہر یک عاقل اس کو سمجھ سکتا ہے ۔ پہلا فیضان فیضان اعم ہے ۔ یہ وہ فیضان مطلق ہے کہ جو بلا تمیز ذی روح و غیر ذی روح افلاک سے لے کر خاک تک تمام چیزوں پر علی الاتصال جاری ہے اور ہر یک چیز کا عدم سے صورت وجود پکڑنا اور پھر وجود کا حد کمال تک پہنچنا اسی فیضان کے ذریعہ سے ہے۔ اور کوئی چیز جاندار ہویا غیر جاندار اس سے باہر نہیں ۔ اسی سے وجود تمام ارواح واجسام ظہور پذیر ہوا اور ہوتا ہے اور ۳۷۲۶) ہر یک چیز نے پرورش پائی اور پاتی ہے۔ یہی فیضان تمام کائنات کی جان ہے اگر ایک لمحہ منقطع ہو جائے۔ تو تمام عالم نابود ہو جائے۔ اور اگر نہ ہوتا ۔ تو مخلوقات میں سے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اس کا نام قرآن شریف میں ربوبیت ہے۔ اور اسی کی رو سے خدا کا نام رب العالمین ہے۔ جیسا کہ اس نے دوسری جگہ بھی فرمایا ہے ۔ وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْ - الجزء نمبر ٨-یعنی خدا هر یک چیز کا رب ہے۔ اور کوئی چیز عالم کی چیزوں میں سے اس کی ربوبیت میں سے با ہر نہیں سوخدا نے سورۃ فاتحہ میں سب صفات فیضانی میں سے پہلے صفت رب العالمین کو بیان فرمایا۔ اور کہا۔ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ ۔ یہ اس لئے کہا کہ سب فیضانی صفتوں میں سے تقدم طبعی صفت ربوبیت کو حاصل ہے یعنی ظہور کے رو سے بھی صفت مقدم الظہو را اور تمام صفات فیضانی سے اہم ہے کیونکہ ہر یک چیز پر خواہ جاندار ہو خواہ غیر جاندار مشتمل ہے ۔ پھر دوسرا قم فیضان کا جو دوسرے مرتبہ پر واقعہ ہے فیضان عام ہے۔ اس میں رو سے اس کی صفات کا بے مثل ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ اس کے وجود کا پتہ لگتا ہے ۔ اس کا مزہ اور مقدس ہونا مانا جاتا ہے۔ اس کی وحدانیت پھیلتی ہے اس کی گم گشتہ تو حید پھر قائم ہوتی ہے۔ اسی کتاب سے آپ لوگ مونہہ پھیر تے ہیں ۔ بدقسمتی ہے یا نہیں ؟ (۳۷۲) بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ الانعام : ۱۶۵