براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 445
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۴۳ براہین احمدیہ حصہ چہارم ولایت یا نبوت اور رسالت کی رکھتا ہے اور پھر بعض حوادث ارضی کے باعث سے یا جنگلی پیدائش ہونے کی وجہ سے وہ اسی حالت میں مرجائے اور خدا اس کو تعریفوں میں بہت سا افترا بھی کیا۔ مگر پھر بھی اس کے نقصانوں کو چھپا نہ سکے اور اس کی (۳۷۰) بقيه حاشیه در حاشیه نمبر آلودگیوں کا آپ اقرار کر کے پھر خواہ نخواہ اس کو خدائے تعالی کا بیٹا قرار دیا۔ یوں تو عیسائی اور یہودی اپنی عجیب کتابوں کے رو سے سب خدا کے بیٹے ہی ہیں بلکہ ایک آیت کے رو سے آپ ہی خدا ہیں ۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بدھ مت والے اپنے افترا اور اختراع میں ان سے اچھے رہے کیونکہ انہوں نے بدھ کو خدا ٹھہرا کر پھر ہر گز اس کے لئے یہ تجویز نہیں کیا کہ اس نے پلیدی اور نا پاکی کی راہ سے تولد پایا تھا یا کسی قسم کی نجاست کھائی تھی۔ بلکہ ان کا بدھ کی نسبت یہ اعتقاد ہے کہ وہ مونہہ کے راستہ سے پیدا ہوا تھا پر افسوس عیسائیوں نے بہت ہی جعل سازیاں تو کیں مگر یہ جعلسازی نہ سوجھی کہ مسیح کو بھی مونہہ کے راستہ سے ہی پیدا کرتے اور اپنے خدا کو پیشاب اور پلیدی سے بچاتے۔ اور نہ یہ سو بھی کہ موت جو حقیقت الوہیت سے بلکلی منافی ہے اس پر وارد نہ کرتے ۔ اور نہ یہ خیال آیا کہ جہاں مریم کے بیٹے نے انجیلوں میں اقرار کیا ہے کہ میں نہ نیک ہوں اور نہ دانا مطلق ہوں نہ خود بخود آیا ہوں نہ عالم الغیب ہوں نہ قادر ہوں نہ دعا کی قبولیت میرے ہاتھ میں ہے۔ میں صرف ایک عاجز ہندو اور مسکین آدم زاد ہوں کہ جو ایک ما لک رب العالمین کا بھیجا ہوا آیا ہوں ۔ ان سب مقاموں کو انجیل سے نکال ڈالنا چاہئے ۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو عظیم الشان صداقت الحمد للہ کے مضمون میں ہے وہ بجز پاک اور مقدس مذہب اسلام کے کسی دوسرے مذہب میں ہر گز پائی نہیں جاتی لیکن اگر بر ہمو لوگ کہیں که صداقت مذکورہ بالا کے ہم قائل ہیں تو جاننا چاہئے کہ وہ بھی اپنے اس بیان میں جھوٹے ہیں ۔ کیونکہ ہم اسی مضمون میں لکھ چکے ہیں کہ برہمو لوگ خدائے تعالیٰ کے لئے گونگا اور بنانے میں کوئی دوسرا بھی قادر ہے۔ تو اس قول کے ہمو جب معرفت صانع عالم پر کوئی نشان نہ رہا گویا آپ کے مذہب کا یہ خلاصہ ہوا کہ خدائے تعالی کی ہستی پر کوئی