براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 444
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۴۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم نہیں چھوڑتا ۔ خدا کی نظر عمیق ہر یک انسان کی استعداد کے گہراؤ تک پہنچی (۳۷۰ ہوئی ہے وہ صاحب استعداد کو اپنی استعداد ظاہر کرنے سے کبھی محروم نہیں رکھتا اور ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ایک شخص خدا کے علم میں استعداد معرفت اور حاشیه نمبر ا ا مدت تک بھوک اور پیاس اور درد اور بیماری کا دکھ اٹھاتا رہا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ وہ بھوک کے دکھ سے ایک انجیر کے نیچے گیا مگر چونکہ انجیر پھلوں سے خالی پڑی ہوئی تھی اس لئے محروم رہا اور یہ بھی نہ ہو سکا کہ دو چارا نجیریں اپنے کھانے کے لئے پیدا کر لیتا۔ غرض ایک مدت تک ایسی ایسی آلودگیوں میں رہ کر اور ایسے ایسے دکھ اٹھا کر با قرار عیسائیوں کے مر گیا اور اس جہان سے اٹھایا گیا۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ کیا خداوند قادر مطلق کی ذات میں ایسی ہی صفات ناقصہ ہونی چاہئے ۔ کیا وہ اسی سے قدوس اور ذوالجلال کہلاتا ہے کہ وہ ایسے عیبوں اور نقصانوں سے بھرا ہوا ہے اور کیا ممکن ہے کہ ایک ہی ماں یعنی مریم کے پیٹ میں سے پانچ بچے پیدا ہوکر ایک بچہ خدا کا بیٹا بلکہ خدا بن گیا اور چار باقی جو ر ہے ان بیچاروں کو خدائی سے کچھ بھی حصہ نہ ملا بلکہ قیاس یہ چاہتا تھا کہ جبکہ کسی مخلوق کے پیٹ سے خدا بھی پیدا ہو سکتا ہے یہ نہیں کہ ہمیشہ آدمی سے آدمی اور گدھی سے گدھا پیدا ہو ۔ تو جہاں کہیں کسی عورت کے پیٹ سے خدا پیدا ہو تو پھر اس پیٹ سے کوئی مخلوق پیدا نہ ہو بلکہ جس قدر بچے پیدا ہوتے جائیں وہ سب خدا ہی ہوں تا وہ پاک رحم مخلوق کی شرکت سے منزہ رہے اور فقط خداؤں ہی کے پیدا ہونے کی ایک کان ہو۔ پس قیاس متذکرہ بالا کے رو سے لازم تھا کہ حضرت مسیح کے دوسرے بھائی اور بہن بھی کچھ نہ کچھ خدائی میں سے بخرہ پاتے اور ان پانچوں حضرات کی والدہ تو رب الارباب ہی کہلاتی ۔ کیونکہ یہ پانچوں حضرات روحانی اور جسمانی قوتوں میں اسی سے فیض یاب ہیں۔ عیسائیوں نے ابن مریم کی بے جا یہ ماننا پڑا کہ جو کچھ خدا کی طرف سے ہے اس کا بے نظیر ہونا ضروری نہیں اور اس اعتقاد سے آپ لوگوں کو یہ لازم آیا کہ یہ اقرار کریں کہ جو چیزیں خدا کی طرف سے صادر ہیں ان کے