براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 443 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 443

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۴۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم جو الہام پانے کے لئے ضروری شرط ہے ۔ ہر یک فرد بنی آدم میں نہیں پائی جاتی ۔ اور اگر کسی میں ذاتی قابلیت پائی جائے تو وہ اب بھی بذریعہ الہام اپنے مایحتاج میں خدائے تعالیٰ سے اطلاع پا سکتا ہے اور خدا اس کو ہر گز ضائع که خداوند قادر مطلق اور از لی اور ابدی پر یہ بہتان باندھا جاوے کہ وہ ہمیشہ اپنی ذات میں کامل اور غنی اور قادر مطلق رہ کر آخر کا ر ایسے ناقص بیٹے کا محتاج ہو گیا اور اپنے سارے جلال اور بزرگی کو بہ یکبارگی کھو دیا۔ میں ہر گز باور نہیں کرتا کہ کوئی دانا اس ذات کامل کی نسبت کہ جو تجمع جمیع صفات کا ملہ ہے ایسی ایسی ذلتیں جائز رکھے اور ظاہر ہے کہ اگر ابن مریم کے واقعات کو فضول اور بیہودہ تعریفوں سے الگ کر لیا جائے تو انجیلوں سے اس کے واقعی حالات کا یہی خلاصہ نکلتا ہے کہ وہ ایک عاجز اور ضعیف اور ناقص بندہ یعنی جیسے کہ بندے ہوا کرتے ہیں اور حضرت موسیٰ کے ماتحت نبیوں میں سے ایک نبی تھا۔ اور اس بزرگ اور عظیم الشان رسول کا ۳۶۹ ،نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ایک تابع اور پس رو تھا اور خود اس بزرگی کو ہر گز نہیں پہنچا تھا یعنی اس کی تعلیم ایک اعلیٰ تعلیم کی فرع تھی مستقل تعلیم یہ تھی اور وہ خود انجیلوں میں اقرار کرتا ہے کہ میں نہ نیک ہوں اور نہ عالم الغیب ہوں ۔ نہ قادر ہوں ۔ بلکہ ایک بندہ عاجز ہوں ۔ اور انجیل کے بیان سے ظاہر ہے کہ اس نے گرفتار ہونے سے پہلے کئی دفعہ رات کے وقت اپنے بچاؤ کے لئے دعا کی اور چاہتا تھا کہ دعا اس کی قبول ہو جائے مگر اس کی وہ دعا قبول نہ ہوئی اور نیز جیسے عاجز بندے آزمائے جاتے ہیں وہ شیطان سے آزمایا گیا پس اس سے ظاہر ہے کہ وہ ہر طرح عاجز ہی عاجز تھا ۔ مخرج معلوم کی راہ سے جو پلیدی اور ناپاکی کا مبرز ہے تو لد پا کر نشان خدا کی ہستی کا یہی ہے کہ جو کچھ اس کی طرف سے ہے وہ ایسی حالت بے نظیری پر (۳۶۹) واقعہ ہے کہ اس صانع بے مثل پر دلالت کر رہا ہے اب جبکہ وہ بے نظیری انجیل میں ثابت نہ ہوئی اور قرآن شریف کو آپ لوگوں نے قبول نہ کیا تو اس صورت میں آپ لوگوں کو