براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 441
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۳۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم سے ادب آموز کرتا۔ اس کے لئے بجائے استاد اور معلم اور ما اور باپ کے اکیلا خدا (۳۶۷) ہی تھا۔ جس نے اس کو پیدا کر کے آپ سب کچھ اس کو سکھایا۔ غرض آدم کے لئے یہ ضرورت حقا و وجو با پیش آگئی تھی کہ خدا اس کی تربیت آپ فرماتا اور اس کے بقیه حاشیه در حاشیه نمبر کر رہے ہیں ۔ وہ ایک ایسا امر ہے کہ صرف ایک ہی سوال سے دانا انسان سمجھ سکتا ہے یعنی اگر کسی دانا سے پوچھا جائے کہ کیا اس ذات کامل اور قدیم اور غنی اور بے نیاز کی نسبت جائز ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ اپنے تمام عظیم الشان کاموں میں جو قدیم سے وہ کرتا رہا ہے آپ ہی کافی ہو آپ ہی بغیر حاجت کسی باپ یا بیٹے کے تمام دنیا کو پیدا کیا ہو اور آپ ہی تمام روحوں اور جسموں کو وہ قو تیں بخشی ہوں جن کی انہیں حاجت ہے اور آپ ہی تمام کائنات کا حافظ اور قیوم اور مدبر ہو۔ بلکہ ان کے وجود سے پہلے جو کچھ ان کو زندگی کے لئے درکار تھا وہ سب اپنی صفت رحمانیت سے ظہور میں لایا اور بغیر انتظار عمل کسی عامل کے سورج اور چاند اور بے شمار ستارے اور زمین اور ہزار ہا نعمتیں جو زمین پر پائی جاتی ہیں محض اپنے فضل و کرم سے انسانوں کے لئے پیدا کی ہوں اور ان سب کاموں میں کسی بیٹے کا محتاج نہ ہوا ہو لیکن پھر وہی کامل خدا آخری زمانہ میں اپنا تمام جلال اور اقتدار کا اعدم کر کے مغفرت اور نجات دینے کے لئے بیٹے کا محتاج ہو جائے اور پھر بیٹا بھی ایسا ناقص بیٹا جس کو باپ سے کچھ بھی مناسبت نہیں جس نے باپ کی طرح نہ کوئی گوشہ آسمان کا اور نہ کوئی قطعہ زمین کا پیدا کیا جس سے اس کی الوہیت ثابت ہو بلکہ مرقس کے ۸ باب ۱۲ آیت میں اس کی عاجزانہ حالت کو اس طرح بیان کیا ہے کہ اس نے اپنے دل سے آہ کھینچ کر کہا کہ اس زمانہ کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں۔ میں آپ لوگ کمال ایمان و یقین کے درجہ تک کیونکر پہنچ سکتے ہیں اور کیوں بے فکر بیٹھے ہیں ۔ کیا کسی اور کتاب کے نازل ہونے کی انتظار ہے یا پر ہموجی بننے کا ارادہ ہے اور ایمان اور خدا کی کچھ پرواہ نہیں اب دیکھئے کہ قرآن شریف کی بے نظیری کے انکار (۳۶۸)