براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 439
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۳۷ براہین احمدیہ حصہ چہارم 11 رواج پکڑ گئے ۔ تب بعض انسان بعض انسانوں کے استاد اور معلم بن بیٹھے اور اور خدا کے کاموں میں ان کو مستقل طور پر دخیل قرار دیتے ہیں ۔ بلکہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ خدا کے ارادوں کو بدلنے والے اور اس کی تقدیروں کو زیر زبر کرنے والے ہیں۔ اور نیز ہند ولوگ کئی انسانوں اور دوسرے جانوروں کی نسبت بلکہ بعض نا پاک اور نجاست خوار حیوانات یعنی خنزیر وغیرہ کی نسبت یہ خیال کرتے ہیں کہ کسی زمانہ میں ان کا پر میشر ایسی ایسی جونوں میں تولد پا کر ان تمام آلائشوں اور آلودگیوں سے ملوث ہوتا رہا ہے کہ جو ان چیزوں کے عائد حال ہیں اور نیز انہیں چیزوں کی طرح بھوک اور پیاس اور درد اور دکھ اور خوف اور غم اور بیماری اور موت اور ذلت اور رسوائی اور عاجزی اور ناتوانی کی آفات میں گرفتار ہوتا رہا ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تمام اعتقادات خدائے تعالیٰ کی خوبیوں میں بٹہ لگاتے ہیں اور اس کے ازلی و ابدی جاہ وجلال کو گھٹاتے ہیں۔ اور آریہ سماج والے جو ان کے مہذب بھائی نکلے ہیں ۔ جن کا یہ گمان ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک وید کی لکیر پر چلتے ہیں۔ وہ خدائے تعالی کو خالقیت سے ہی جواب دیتے ہیں اور تمام روحوں کو اس کی ذات کامل کی طرح غیر مخلوق اور واجب الوجود اور موجود بوجود حقیقی قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ عقل سلیم خدائے تعالی کی نسبت صریح بی نقص سمجھتی (۳۶۶) ہے کہ وہ دنیا کا مالک کہلا کر پھر کسی چیز کا رب اور خالق نہ ہو اور دنیا کی زندگی اس کے سہارے سے نہیں بلکہ اپنے ذاتی وجوب کے رو سے ہو۔ اور جب عقل سلیم کے آگے یہ دونوں سوال پیش کئے جائیں کہ آیا خداوند قادر مطلق کے محامد تامہ کے لئے یہ بات اصلح اور انسب ہے کہ وہ آپ ہی اپنی قدرت کا ملہ سے تمام موجودات کو منصہ ظہور میں لاکر ان سب کا رب اور خالق ہو اور تمام کائنات کا سلسلہ اسی کی ربوبیت تک ختم ہوتا ہو اور خالقیت کی صفت انسان کے کلام میں پائے جانا ممتنع اور محال ہے ۔ تب وہ بلا شبہ بے نظیر ٹھہرتی مگر وہ خوبیاں تو انجیل میں سے اسی زمانہ میں رخصت ہو گئیں جب حضرات عیسائیوں نے نفسانیت سے (۳۶۶) اس میں تصرف کرنا شروع کیا۔ نہ وہ الفاظ رہے نہ وہ معانی رہے نہ وہ حکمت