براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 438
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۳۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۶۵ ۳۶۵ کے پہنچایا ۔ ہاں بعد اس کے جب اولا د حضرت آدم کی دنیا میں پھیل گئی ۔ اور جو علوم خدائے تعالیٰ نے آدم کو سکھلائے تھے ۔ وہ اس کی اولاد میں بخوبی اللہ کو تمام دوسرے اسماء وصفات کا موصوف ٹھہرایا ہے اور کسی جگہ کسی دوسرے اسم کو یہ رتبہ نہیں دیا۔ پس اللہ کے اسم کو بوجہ موصوفیت تامہ ان تمام صفتوں پر دلالت ہے جن کا وہ موصوف ہے اور چونکہ وہ جمیع اسماء اور صفات کا موصوف ہے اس لئے اس کا مفہوم یہ ہوا کہ وہ جمیع صفات کاملہ پر مشتمل ہے۔ پس خلاصہ مطلب الحمد للہ کا یہ نکلا کہ تمام اقسام حمد کے کیا باعتبار ظاہر کے اور کیا باعتبار باطن کے اور کیا باعتبار ذاتی کمالات کے اور کیا باعتبار قدرتی عجائبات کے اللہ سے مخصوص ہیں اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ اور نیز جس قد ر حامد صحیحہ اور کمالات تامہ کو قدر اور کو عقل کسی عاقل کی سوچ سکتی ہے یا فکر کسی متفکر کا ذہن میں لاسکتا ہے۔ وہ سب خوبیاں اللہ تعالی میں موجود ہیں ۔ اور کوئی ایسی خوبی نہیں کہ عقل اس خوبی کے امکان پر شہادت دے ۔ مگر اللہ تعالی بد قسمت انسان کی طرح اس خوبی سے محروم ہو ۔ بلکہ کسی عاقل کی عقل ایسی خوبی پیش ہی نہیں کر سکتی کہ جو خدا میں نہ پائی جائے ۔ جہاں تک انسان زیادہ سے زیادہ خوبیاں سوچ سکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہیں اور اس کو اپنی ذات اور صفات اور محامد میں من کل الوجوہ کمال حاصل ہے اور رزائل سے بکگلی منزہ ہے ۔ اب دیکھو یہ ایسی صداقت ہے جس سے سچا اور جھوٹا مذہب ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ تمام مذہبوں پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ بجز اسلام دنیا میں کوئی بھی ایسا مذہب نہیں ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کو جمیع رزائل سے منزہ اور تمام محامد کاملہ سے متصف سمجھتا ہو۔ عام ہندو اپنے دیوتاؤں کو کارخانہ ربوبیت میں شریک سمجھتے ہیں پہنچایا اور اپنی نعمت کو امت محمدیہ پر پورا کیا ۔ اب اس تمام تحقیقات سے ظاہر ہے کہ انجیل کی تعلیم کا مل بھی نہیں چہ جائیکہ اس کو بے نظیر اور لاثانی کہا جائے ہاں اگر انجیل لفظاً ومعنا خدا کا کلام ہوتا اور اس میں ایسی خوبیاں پائی جاتیں جن کا ۳۶۵