براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 433
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۳۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم حقہ بھی پائی جائے ۔ ابتدا میں جب خدا نے انسان کو پیدا کیا ۔ اس وقت بذریعہ الہام بولیوں کی تعلیم کرنا ایسا امر تھا کہ جس میں دونوں طور بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا | بقيه حاشیه در حاشیه نـ دلی عاجزی کے ساتھ امداد الہی چاہتا ہے۔ اور نہ اس کی روحانی حالت درست ہوتی ہے بلکہ اس کے ہونٹوں میں دعا اور اس کے دل میں غفلت یار یا ہوتی ہے۔ یا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا اس ۳۶ ) کی دعا کو سن تو لیتا ہے اور اس کے لئے جو کچھ اپنی حکمت کا ملہ کے رو سے مناسب اور اصلح دیکھتا ہے عطا بھی فرماتا ہے لیکن نادان انسان خدا کی ان الطاف خفیہ کو شناخت نہیں کرتا اور بباعث اپنے جہل اور بے خبری کے شکوہ اور شکایت شروع کر دیتا ہے۔ اور اس آیت کے مضمون کو نہیں سمجھتا۔ علی اَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ما یعنی ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو بری سمجھو اور وہ اصل میں تمہارے لئے اچھی ہو اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو دوست رکھو اور وہ اصل میں تمہارے لئے بری ہو اور خدا چیزوں کی اصل حقیقت کو جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ اب ہماری اس تمام تقریر سے واضح ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کس قدر عالی شان صداقت ہے جس میں حقیقی توحید اور عبودیت اور خلوص میں ترقی کرنے کا نہایت عمدہ سامان موجود ہے جس کی نظیر کسی اور کتاب میں نہیں پائی جاتی۔ اور اگر کسی کے زعم میں پائی جاتی ہے تو وہ اس صداقت کو معہ تمام دوسری صداقتوں کے جو ہم نیچے لکھتے ہیں نکال کر پیش کرے۔ اس جگہ بعض کو نہ اندیش اور نادان دشمنوں نے ایک اعتراض بھی بسم اللہ کی بلاغت پر کیا ہے ۔ ان معترضین میں سے ایک صاحب تو پادری عماد الدین نام ہیں ۔ جس نے اپنی کتاب ہدایت المسلمین میں اعتراض مندرجہ ذیل لکھا ہے ۔ دوسرے صاحب باوا نہیں کر سکتے ۔ مگر میرے بعد ایک دوسرا آنے والا ہے وہ سب باتیں کھول دے گا اور علم (۳۶) دین کو بمرتبہ کمال پہنچائے گا۔ سو حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے اور ایک عرصہ تک وہی ناقص کتاب لوگوں کے ہاتھ میں رہی اور پھر اس نبی معصوم البقرة: ۲۱۷