براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 428
۳۵۷ روحانی خزائن جلد ۱ ۴۲۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم وہ اس کی تکذیب کر رہے ہیں ۔ جس خدا کے عجائب الہامات اب بھی نا معلوم بولیوں کو اپنے بندوں ں پر منکشف کر دیتے ہیں ۔ اس کی نسبت یہ گمان کہ ایسے کہ وہ دیکھتا ہے کہ میرا کچھ بھی اپنا نہیں بلکہ سب کچھ میں خدا سے پاتا ہوں ۔ جہاں کہیں یہ ۳۵۷ طریق کسی نے اختیار کیا وہ ہیں تو حید کی خوشبو پہلی دفعہ میں ہی اس کو پہنچے لگتی ہے اور دل اور دماغ کا معطر ہونا شروع ہوتا جاتا ہے بشرطیکہ قوت شامہ میں کچھ فساد نہ ہو ۔ غرض اس صداقت کے التزام میں طالب صادق کو اپنے بیچ اور بے حقیقت ہونے کا اقرار کرنا پڑتا ہے اور اللہ جل شانہ کے متصرف مطلق اور مبدء فیوض ہونے پر شہادت دینی پڑتی ہے۔ اور ۳۵۷ " یہ دونوں ایسے امر ہیں کہ جو حق کے طالبوں کا مقصود ہے اور مرتبہ فنا کے حاصل کرنے کے لئے ایک ضروری شرط ہے۔ اس ضروری شرط کے سمجھنے کے لئے یہی مثال کافی ہے کہ بارش اگر چہ عالمگیر ہو مگر تا ہم اس پر پڑتی ہے کہ جو بارش کے موقعہ پر آ کھڑا ہوتا ہے ۔ اسی طرح جو لوگ طلب کرتے ہیں وہی پاتے ہیں اور جو ڈھونڈتے ہیں انہیں کو ملتا ہے ۔ جو لوگ کسی کام کے شروع کرنے کے وقت اپنے ہنر یا معقل یا طاقت پر بھروسا رکھتے ہیں اور خدائے تعالیٰ پر بھروسہ نہیں رکھتے وہ اس ذات قادر مطلق کا کہ جو اپنی قیومی کے ساتھ تمام عالم پر محیط ہے کچھ قدر شناخت نہیں کرتے اور ان کا ایمان اس خشک ٹہنی کی طرح ہوتا ہے کہ جس کو اپنے شاداب اور سرسبز درخت سے کچھ علاقہ نہیں رہا اور جو ایسی خشک ہوگئی ہے کہ اپنے درخت کی تازگی اور پھول اور پھل سے کچھ بھی حصہ حاصل نہیں کر سکتے صرف ظاہری جوڑ ہے جو ذرا سی جنبش ہوا سے یا کسی اور شخص کے ہلانے سے ٹوٹ سکتا ہے پس ایسا بے موجب قتل کر دیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا ۔ اور ایسا ہی فرمایا ۔ إنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَائِ ذِي الْقُرْبى - ے نے خدا حکم فرماتا ہے کہ تم عدل اور احسان اور ایتاء ذی القربی اپنے اپنے محل پر کرو ۔ سو ل النحل : ٩١