براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 427
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۲۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم بقیه حاشیه در حاشیه نمبر | | کوئی بولی ایجاد کرنی چاہئے ۔ یہ خیال ایسا بد یہی البطلان ہے کہ خدا کی وہ کامل (۳۵۶ قدرتیں اور کامل رحم اور کامل تربیت کہ جو ہر یک زمانہ میں مشہور چلی آئی ہے یہ صداقت قدیم سے چلی آتی ہے کہ جو لوگ اپنے تئیں حقیر اور ذلیل سمجھ کر اپنے کاموں میں اس کا سہارا طلب کرتے ہیں اور اس کے نام سے اپنے کاموں کو شروع کرتے ہیں تو وہ ان کو اپنا سہارا دیتا ہے۔ جب وہ ٹھیک ٹھیک اپنی عاجزی اور عبودیت سے رو بخدا ہو جاتے ہیں تو اس کی تائید میں ان کے شامل حال ہو جاتی ہیں ۔ غرض ہر ایک شاندار کام کے شروع میں اس مہدہ فیوض کے نام سے مدد چاہنا کہ جو رحمان و رحیم ہے ۔ ایک نہایت ادب اور عبودیت اور نیستی اور فقر کا طریقہ ہے۔ اور ایسا ضروری طریقہ ہے کہ جس سے تو حید فی الاعمال کا پہلا زینہ شروع ہوتا ہے جس کے التزام سے انسان بچوں کی سی عاجزی اختیار کر کے ان نخوتوں سے پاک ہو جاتا ہے کہ جو دنیا کے مغرور دانشمندوں کے دلوں میں بھری ہوتی ہیں اور پھر اپنی کمزوری اور امداد الہی پر یقین کامل کر کے اس معرفت سے حصہ پالیتا ہے کہ جو خاص اہل اللہ کو دی جاتی ہے اور بلا شبہ جس قدر انسان اس طریقہ کو لازم پکڑتا ہے جس قدر اس پر عمل کرنا اپنا فرض ٹھہرا لیتا ہے۔ جس قدر اس کے چھوڑنے میں اپنی ہلاکت دیکھتا ہے اسی قدر اس کی توحید صاف ہوتی ہے اور اسی قدر تعجب اور خود بینی کی آلائشوں سے پاک ہوتا جاتا ہے اور اسی قدر تکلف اور بناوٹ کی سیاہی اس کے چہرہ پر سے اٹھ جاتی ہے اور سادگی اور بھولا پن کا نور اس کے مونہہ پر چپکنے لگتا ہے پس یہ وہ صداقت ہے کہ جو رفتہ رفتہ انسان کو فنا فی اللہ کے مرتبہ تک پہنچاتی ہے۔ یہاں تک حيوة يا ولي الألباب با مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا " بھنے اے دانشمند و ۔ قاتل کے قتل کرنے اور موڈی کی ۔ ، ای قدر ایذا دینے میں تمہاری زندگی ہے ۔ جس نے ایک انسان کو ناحق بقیه حاشیه در حاشیه نمبر البقرة: ١٨٠ ٢ المائدة :۳۳