براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 426
روحانی خزائن جلد 1 ۴۲۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۵۵) کیا یہاں تک کہ انسان اس کی کم التفاقی کی وجہ سے مدت دراز تک حیوانوں اور ۳۵۶ وحشیوں کی طرح اپنی زندگی کو بسر کرتا رہا اور پھر آخر کار اس کو آپ ہی سوجھی کہ بقیه حاشیه نمبراا پس صادق آدمی جس کے روح میں کسی قسم کے غرور اور عجب نے جگہ نہیں پکڑی اور جو اپنے کمزور اور پیچ اور بے حقیقت وجود پر خوب واقف ہے اور اپنے تئیں کسی کام کے انجام دینے کے لائق نہیں پاتا اور اپنے نفس میں کچھ قوت اور طاقت نہیں دیکھتا جب کسی کام کو شروع کرتا ہے تو بلا تصنع اس کی کمز ور روح آسمانی قوت کی خواستگار ہوتی ہے اور ہر وقت اس کو خدا کی مقتدر ہستی اپنے سارے کمال و جلال کے ساتھ نظر آتی ہے اور اس کی رحمانیت اور رحیمیت ہر یک کام کے انجام کے لئے مدار دکھلائی دیتی ہے۔ پس وہ بلا ساختہ اپنا ناقص اور نا کارہ زور ظاہر کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی دعا سے امداد الہی چاہتا ہے پس اس انکسار اور فروتنی کی وجہ سے اس لائق ہو جاتا ہے کہ خدا کی قوت سے قوت اور خدا کی طاقت سے طاقت اور خدا کے علم سے علم پاوے اور اپنی مرادات میں کامیابی حاصل کرے ۔ اس بات کے ثبوت کے واسطے کسی منطق یا فلسفہ کے دلائل پر از تکلف در کار نہیں ہیں بلکہ ہر یک انسان کے روح میں اس کے سمجھنے کی استعداد موجود ہے اور عارف صادق کے اپنے ذاتی تجارب اس کی صحت پر بہ تو اتر شہادت دیتے ہیں بندہ کا خدا سے امداد چاہنا کوئی ایسا امر نہیں ہے جو صرف بیہودہ اور بناوٹ ہو یا جو صرف بے اصل خیالات پر مبنی ہوا اور کوئی معقول نتیجہ اس پر مترتب نہ ہو بلکہ خدا وند کریم کہ جو فی الحقیقت قیوم عالم ہے اور جس کے سہارے پر سچ مچ اس عالم کی کشتی چل رہی ہے اس کی عادت قدیمہ کے رو سے بدی کی عادت پکتی جاتی ہے اور شرارت کا ملکہ راسخ ہوتا جاتا ہے ایک چور کو سزا کے بغیر چھوڑ دو پھر دیکھو کہ دوسری مرتبہ کیا رنگ دکھا تا ہے ۔ اسی جہت سے خدائے تعالیٰ ۳۵۶ نے اپنی اس کتاب میں جو حکمت سے بھری ہوئی ہے فرمایا وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ