براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 425
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۲۳ براہین احمدیہ حصہ چہارم انسان کو بے زبانی کی حالت میں دیکھ کر پھر اس کو زبان سکھلانے سے دریغ رحمانیت سے حاصل ہوتے ہیں۔ اور صفت رحیمیت سے برکت طلب کرنا اس غرض سے ہے که تا وہ ذات کامل اپنی رحیمیت کی وجہ سے انسان کی کوششوں پر ثمرات حسنہ مترتب کرے اور انسان کی محنتوں کو ضائع ہونے سے بچاوے اور اس کی سعی اور جد وجہد کے بعد اس کے کام میں برکت ڈالے پس اس طور پر خدائے تعالیٰ کی دونوں صفتوں رحمانیت اور رحیمیت سے کلام الہی کے شروع کرنے کے وقت بلکہ ہر یک ذیشان کام کے ابتدا میں تبرک اور استمداد چاہنا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی صداقت ہے جس سے انسان کو حقیقت تو حید کی حاصل ہوتی ہے اور اپنے جہل اور بے خبری اور نادانی اور گمراہی اور عاجزی اور خواری پر یقین کامل ہو کر مبد فیض کی عظمت اور جلال پر نظر جا ٹھہرتی ہے اور اپنے تئیں بکلی مفلس اور مسکین اور پیچ اور نا چیز سمجھ کر خداوند قادر مطلق سے اس کی رحمانیت اور رحیمیت کی برکتیں طلب کرتا ہے ۔ اور اگر چہ خدائے تعالی کی یہ صفتیں خود بخود اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں مگر اس حکیم مطلق نے قدیم سے (۳۵۵ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر انسان کے لئے یہ قانون قدرت مقرر کر دیا ہے کہ اس کی دعا اور استمد اوکو کامیابی میں بہت سا دخل ہے جو لوگ اپنی مہمات میں ولی صدق سے دعا مانگتے ہیں اور ان کی دعا پورے پورے اخلاص تک پہنچ جاتی ہے تو ضرور فیضان الہی ان کی مشکل کشائی کی طرف توجہ کرتا ہے۔ ہر یک انسان جو اپنی کمزوریوں پر نگاہ کرتا ہے اور اپنے قصوروں کو دیکھتا ہے وہ کسی کام پر آزادی اور خود بینی سے ہاتھ نہیں ڈالتا بلکہ بچی عبودیت اس کو یہ سمجھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کہ جو متصرف مطلق ہے اس سے مدد طلب کرنی چاہئے یہ کچی عبودیت کا جوش ہر ایک ایسے دل میں پایا جاتا ہے کہ جو اپنی فطرتی سادگی پر قائم ہے اور اپنی کمزوری پر اطلاع رکھتا ہے۔ اور ہر حالت میں انتقام اور کینہ کشی پر مستعد رہتا ہے ۔ نادان لوگ ہر محل میں عفو اور در گزر کرنا پسند کرتے ہیں ۔ یہ نہیں سوچتے کہ ہمیشہ در گزر کرنے سے نظام عالم میں (۳۵۵ ابتری پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ فعل خود مجرم کے حق میں بھی مضر ہے کیونکہ اس سے اس کی