براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 424
۳۵۴ روحانی خزائن جلد ۱ ۴۲۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم "1 رکھتی ہیں اور جس کی قدرت تامہ ہر یک طور کی تعلیم و تفہیم کر سکتی ہے وہ اس لائق ہے کہ اس کی نسبت یہ گمان کیا جائے کہ اس نے دیدہ و دانستہ اپنے اپنے کاموں میں لگے رہنا اور خود انسان کا طرح طرح کی قوتوں اور طاقوں کے ساتھ مشرف ہو کر اس دنیا میں آنا اور تندرستی اور امن اور فرصت اور ایک کافی مدت تک عمر پانا یہ وہ سب امور ہیں کہ جو صفت رحمانیت کے تقاضا سے ظہور میں آتے ہیں۔ اسی طرح خدا کی رحیمیت تب ظہور کرتی ہے کہ جب انسان سب تو فیقوں کو پا کر خدا داد قوتوں کو سی فعل کے انجام کے لئے حرکت دیتا ہے۔ اور جہاں تک اپنا زور اور طاقت اور قوت سے خرچ کرتا ہے تو اس وقت عادت الہیہ اس طرح پر جاری ہے کہ وہ اس کی کوششوں کو ضائع ہونے نہیں دیتا بلکہ ان کوششوں پر ثمرات حسنہ مترتب کرتا ہے۔ پس یہ اس کی سراسر رحیمیت ہے کہ جو انسان کی مردہ محنتوں میں جان ڈالتی ہے۔ اب جاننا چاہئے کہ آیت مدوحہ کی تعلیم سے مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف کے شروع کرنے کے وقت اللہ تعالی کی ذات جامع صفات کاملہ کی رحمانیت اور رحیمیت سے استمداد اور برکت طلب کی جائے ۔ صفت رحمانیت سے برکت طلب کرنا اس غرض سے ہے کہ تا وہ ذاتِ کامل اپنی رحمانیت کی وجہ سے ان سب اسباب کو محض لطف اور احسان سے میسر کر دے کہ جو کلام الہی کی متابعت میں جد و جہد کرنے سے پہلے درکار ہیں ۔ جیسے عمر کا وفا کرنا ۔ فرصت اور فراغت کا حاصل ہونا ۔ وقت صفا میسر آ جانا۔ طاقتوں اور قوتوں کا قائم ہونا۔ کوئی ایسا امر پیش نہ آجانا کہ جو آسائش اور امن میں خلل ڈالے۔ کوئی ایسا مانع نہ آپڑنا کہ جو دل کو متوجہ ہونے سے روک دے۔ غرض ہر طرح سے توفیق عطا کئے جانا یہ سب امور صفت بر خلاف ہے کہ ہمیشہ یہی اصول ٹھہرایا جاوے کہ جب کبھی کسی سے کوئی مجرمانہ حرکت صادر ہو تو حجٹ پٹ اس کے جرم کو معاف کیا جائے ۔ جو شخص ہمیشہ مجرم کو سزا کے بغیر چھوڑ دیتا ہے وہ ایسا ہی نظام عالم کا دشمن ہے جیسے وہ شخص کہ ہمیشہ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳