براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 423 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 423

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۲۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم اور جس کی نظر عمیق کے آگے سب موجود ہونے والی چیزیں موجود بالفعل کا حکم متابعت اختیار کرتا ہے۔ اسی قدر کلام الہی کی تاثیر اس کے دل پر ہوتی ہے اور اسی قدر وہ اس کے انوار سے متمتع ہوتا ہے اور علامات خاصہ مقبولانِ الہی کی اس میں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ دوسری صداقت کہ جو بسم الله الرحمن الرحیم میں مورع ہے یہ ہے کہ یہ آیت (۳۵۳) قرآن شریف کے شروع کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے اور اس کے پڑھنے سے مدعا یہ ہے کہ تا اس ذات مستجمع جمیع صفات کا ملہ سے مدد طلب کی جائے جس کی صفتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ رحمان ہے اور طالب حق کے لئے محض تفضل اور احسان سے اسباب خیر اور برکت اور رشد کے پیدا کر دیتا ہے اور دوسری صفت یہ ہے کہ وہ رحیم ہے یعنی سعی اور کوشش کرنے والوں کی کوششوں کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ان کے جدوجہد پر ثمرات حسنہ مترتب کرتا ہے اور ان کی محنت کا پھل ان کو عطا فرماتا ہے اور یہ دونوں صفتیں یعنی رحمانیت اور رحیمیت ایسی ہیں کہ بغیر ان کے کوئی کام دنیا کا ہو یا دین کا انجام کو پہنچ نہیں سکتا اور اگر غور کر کے دیکھو تو ظاہر ہوگا کہ دنیا کی تمام مہمات کے انجام دینے کے لئے یہ دونوں صفتیں ہر وقت اور ہر لحظہ کام میں لگی ہوئی ہیں ۔ خدا کی رحمانیت اس وقت سے ظاہر ہو رہی ہے کہ جب انسان ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ سو وہ رحمانیت انسان کے لئے ایسے ایسے اسباب بہم پہنچاتی ہے کہ جو اس کی طاقت سے باہر ہیں اور جن کو وہ کسی حیلہ یا تدبیر سے ہر گز حاصل نہیں کر سکتا اور وہ اسباب کسی عمل کی پاداش میں نہیں دیئے جاتے بلکہ تفضل اور احسان کی راہ سے عطا ہوتے ہیں جیسے نبیوں کا آنا، کتابوں کا نازل ہونا ، بارشوں کا ہونا ، سورج اور چاند اور ہوا اور بادل وغیرہ کا سے در گذر کیا کریں اور کبھی اس قسم کی ہمدردی نہ کریں جس میں شریر کی شرارت کا (۳۵۳) علاج ہو کر آئندہ کو اس کی طبیعت سدھر جائے ۔ ظاہر ہے کہ جیسے بات بات میں سزا دینا اور انتقام لینا مذموم و خلاف اخلاق ہے ۔ اسی طرح یہ بھی خیر خواہی حقیقی کے