براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 422
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۲۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم وہ اس کی پیدائش کو ادھورا چھوڑ دیتا اور پھر انسان اتفاقی طور پر اپنے نقصان کی (۳۵۳) آپ تکمیل کرتا ۔ کیا جس ذات کو ان تمام بولیوں کا قدیم سے علم حاصل ہے۔ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر بھی ضرورت حقہ کے وقت مہیا کر دیتا ہے ۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ خدا کا کلام انہیں برگزیدہ لوگوں پر نازل ہوتا ہے جن سے خدا راضی ہے اور انہیں سے وہ مکالمات اور مخاطبات کرتا ہے جن سے وہ خوش ہے مگر یہ بات ہرگز درست نہیں کہ جس سے خدا راضی اور خوش ہو اس پر خواہ نخواہ بغیر کسی ضرورت حقہ کے کتاب آسمانی نازل ہو جایا کرے یا خدائے تعالیٰ یونہی بلا ضرورت حقہ کسی کی طہارت لازمی کی وجہ سے لازمی اور دائمی طور پر اس سے ہر وقت باتیں کرتا رہے بلکہ خدا کی کتاب اسی وقت نازل ہوتی ہے جب فی الحقیقت اس کے نزول کی ضرورت پیش آ جائے ۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ وحی اللہ کے نزول کا اصل موجب خدائے تعالیٰ کی رحمانیت ہے کسی عامل کا عمل نہیں اور یہ ایک بزرگ صداقت ہے جس سے ہمارے مخالف ہر ہمو وغیرہ بے خبر ہیں ۔ پھر بعد اس کے سمجھنا چاہئے کہ کسی فرد انسانی کا کلام الہی کے فیض سے فی الحقیقت مستفیض ہو جانا اور اس کی برکات اور انوار سے متمتع ہو کر منزل مقصود تک پہنچنا اور اپنی سعی اور کوشش کے ثمرہ کو حاصل کرنا یہ صفت رحیمیت کی تائید سے وقوع میں آتا ہے ۔ اور اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے بعد ذکر صفت رحمانیت کے صفت رحیمیت کو بیان فرمایا تا معلوم ہو کہ کلام الہی کی تاثیریں جو نفوس انسانیہ میں ہوتی ہیں یہ صفت رحیمیت کا اثر ہے ۔ جس قد ر کوئی اعراض صوری و معنوی سے پاک ہو جاتا ہے ۔ جس قدر کسی کے دل میں خلوص اور صدق پیدا ہوتا ہے جس قدر کوئی جد و جہد سے اور فعل حکیم مطلق کو اپنی کو نہ انہی سے قابل اعتراض ٹھہراتا ہے کیا یہ کچھ خوبی کی بات ہے کہ ہم ہر یک وقت بغیر لحاظ موقعہ و مصلحت اپنے گناہ گاروں کے گنا ہوں