براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 421 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 421

روحانی خزائن جلد 1 ۴۱۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم 1 } تھا ۔ کیا کوئی عقل اس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ جس نے انسان کو ایک بڑی مصلحت (۳۵۲) کے لئے پیدا کیا اور اپنے خاص ارادہ سے اُس کو اشرف المخلوقات بنایا ایک عظیم الشان رحمت کا حصہ پایا کہ ایک کامل انسان اور سید الرسل کہ جس سا کوئی پیدا نہ ہوا اور نہ ہو گا دنیا کی ہدایت کے لئے آیا اور دنیا کے لئے اس روشن کتاب کو لایا جس کی نظیر کسی آنکھ نے نہیں دیکھی پس یہ خدا کی کمال رحمانیت کی ایک بزرگ تجلی تھی کہ جو اس نے ظلمت اور تاریکی کے وقت ایسا عظیم الشان نور نازل کیا جس کا نام فرقان ہے جو حق اور باطل میں فرق کرتا ہے جس نے حق کو موجود اور باطل کو نابود کر کے دکھلا دیا وہ اس وقت زمین پر نازل ہوا جب زمین ایک موت روحانی کے ساتھ مر چکی تھی اور بڑ اور بحر میں ایک بھاری فساد واقع ہو چکا تھا پس اس نے نزول فرما کر وہ کام کر دکھایا جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے آپ اشارہ فرما کر کہا ہے۔ اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا به یعنی زمین مرگئی تھی اب خدا اس کو نئے سرے زندہ کرتا ہے۔ اب اس بات کو بخوبی یا درکھنا چاہئے کہ یہ نزول قرآن شریف کا کہ جو زمین کے زندہ کرنے کے لئے ہوا یہ صفت رحمانیت کے جوش سے ہوا۔ وہی صفت ہے کہ جو کبھی جسمانی طور پر جوش مار کر قحط زدوں کی خبر لیتی ہے اور باران رحمت خشک زمین پر برساتی ہے اور وہی صفت کبھی روحانی طور پر جوش مارکر ان بھوکوں اور پیاسوں کی حالت پر رحم کرتی ہے کہ جو ضلالت اور گمراہی کی موت تک پہنچ جاتے ہیں اور حق اور صداقت کی غذا کہ جو روحانی زندگی کا موجب ہے ان کے پاس نہیں رہتی پس رحمان مطلق جیسا جسم کی غذا کو (۳۵۲) بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ اس کی حاجت کے وقت عطا فرماتا ہے ایسا ہی وہ اپنی رحمت کا ملہ کے تقاضا سے روحانی غذا کو ہے ۔ جو انسان کو اپنے اپنے محل پر استعمال کرنے کے لئے عطا کی گئی ہیں ۔ جو شخص لگا تار جا بجا ایک ہی قوت کو استعمال کیا جاتا ہے اور دوسری تمام اخلاقی قوتوں کو بیکار چھوڑ (۳۵۲) دیتا ہے ۔ وہ گویا اس فطرت کو جو خدا نے عطا کی ہے منقلب کرنا چاہتا ہے الحديد: ۱۸