براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 420 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 420

روحانی خزائن جلد ۱ ΓΙΑ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۵۱ سے عاجز رہا۔ کیا قریب قیاس ہے کہ جس نے چندیں ہزار مخلوقات کو بغیر مدد مادہ اور ہیولی کے ایک حکم سے پیدا کر دکھایا وہ بولیوں کی ایجاد پر قادر نہیں ہو سکتا نیکی کرتے ہیں اور دوسرے مہینو میں حق و فجور میں بتا رہے ہیں بلکہ یہ جھنا چاہئے کہ یہوہ مہینے ہیں جن میں زمینداروں کو بارش کی ضرورت ہے اور جن میں بارش کا ہو جانا تمام سال کی سرسبزی کا موجب ہے ایسا ہی کلام الہی کا نزول فرمانا کسی شخص کی طہارت اور تقویٰ کے جہت سے نہیں ہے یعنی علت موجبہ اُس کلام کے نزول کی یہ نہیں ہو سکتی کہ کوئی شخص غایت درجہ کا مقدس اور پاک باطن تھا یا راستی کا بھوکا اور پیاسا تھا بلکہ جیسا کہ ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں۔ کتب آسمانی کے نزول کا اصلی موجب ضرورت حلقہ ہے یعنی وہ ظلمت اور تاریکی کہ جو دنیا پر طاری ۳۵۱ ۳۵۱ بقیه حاشیه در حاشیه ہو کر ایک آسمانی نور کو چاہتی ہے کہ تا وہ نور نازل ہو کر اس تاریکی کو دور کرے اور اسی کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ جو خدائے تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں فرمایا ہے ۔ اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ی یہ لیلۃ القدر اگر چہ اپنے مشہور معنوں کے رو سے ایک بزرگ رات ہے لیکن قرآنی اشارات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی ظلمانی حالت بھی اپنی پوشیدہ خوبیوں میں لیلۃ القدر کا ہی حکم رکھتی ہے اور اس ظلمانی حالت کے دنوں میں صدق اور صبر اور زہد اور عبادت خدا کے نزدیک بڑا قدر رکھتا ہے اور وہی ظلمانی حالت تھی کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت تک اپنے کمال کو پہنچ کر ایک عظیم الشان نور کے نزول کو چاہتی تھی اور اُسی ظلمانی حالت کو دیکھ کر اور ظلمت زدہ بندوں پر رحم کر کے صفت رحمانیت نے جوش مارا اور آسمانی برکتیں زمین کی طرف متوجہ ہوئیں۔ سو وہ ظلمانی حالت دنیا کے لئے مبارک ہو گئی اور دنیا نے اس سے ، ہے کہ ہمیشہ اور ہر محل میں عفو کر نا حقیقی نیکی نہیں ہے بلکہ ایسی تعلیم کو کامل تعلیم سمجھنا ایک غلطی ہے جو ان لوگوں کو لگی ہوئی ہے جن کی نگاہیں انسان کی فطرت کے پورے گہرا ؤ تک نہیں پہنچتیں اور جن کی نظر ان تمام قوتوں کے دیکھنے سے بند رہتی القدر :