براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 419 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 419

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۱۷ براہین احمدیہ حصہ چہارم طاقتیں بے خبر بندوں پر ظاہر کرنا منظور تھا بعض ضروری قدرتوں کے دکھلانے کر سکے اور ان کی تاریکی اور ظلمت کو اپنے کامل اور شافی بیان کے نور سے بکلی اٹھا سکے اور جس طور کا علاج حالت فاسدہ زمانہ کے لئے درکار ہے ۔ وہ علاج اپنے پر زور بیان سے کر سکے ۔ لیکن جو مکالمات و مخاطبات اولیاء اللہ کے ساتھ ہوتے ہیں ان کے لئے غالباً (۳۵۰ اس ضرورت عظمیٰ کا پیش آنا ضروری نہیں بلکہ بسا اوقات صرف اسی قدر ان مکالمات بقيه حاشیه در حاشیه سے مطلب ہوتا ہے کہ تاولی کے نفس کو کسی مصیبت اور محنت کے وقت صبر اور استقامت کے لباس سے منتقلی کیا جائے یا کسی غم اور حزن کے غلبہ میں کوئی بشارت اس کو دی جائے مگر وہ کامل اور پاک کلام خدائے تعالیٰ کا کہ جو نبیوں اور رسولوں پر نازل ہوتا ہے وہ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے اس ضرورت حقہ کے پیش آنے پر نزول فرماتا ہے کہ جب خلق اللہ کو اس کے نزول کی بشدت حاجت ہو ۔ غرض کلام الہی کے نازل ہونے کا اصل موجب ضرورت حقہ ہے۔ جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ جب تمام رات کا اندھیر ہو جاتا ہے اور کچھ نور باقی نہیں رہتا ۔ تو اسی وقت تم سمجھے جاتے ہو کہ اب ماہ ٹو کی آمد نز دیک ہے۔ اسی طرح جب گمراہی کی ظلمت سخت طور پر دنیا پر غالب آجاتی ہے تو عقل سلیم اس روحانی چاند کے نکلنے کو بہت نزد یک سمجھتی ہے ایسا ہی جب امساک باراں سے لوگوں کا حال تباہ ہو جاتا ہے تو اس وقت عقلمند لوگ باران رحمت کا نازل ہونا بہت قریب خیال کرتے ہیں اور جیسا کہ خدا نے اپنے جسمانی قانون میں بھی بعض مہینے برسات کے لئے مقرر کر رکھے ہیں یعنی وہ مہینے جن میں فی الحقیقت مخلوق اللہ کو بارش کی ضرورت ہوتی ہے اور ان مہینوں میں جو مینہہ برستا ہے اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاتا کہ خاص ان مہینوں میں لوگ زیادہ نرمی اور کبھی درشتی کی جائے اور کبھی عفوا اور کبھی سزا دی جائے اور اگر صرف نرمی ہی ہو یا صرف درشتی ہی ہو تو پھر نظام عالم کی کل ہی بگڑ جاتی ہے ۔ پس اس سے