براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 417
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۱۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم سکھلا نہ سکا۔ یہاں تک کہ انسان نے مدت دراز تک بے زبانی کی تکلیفیں اٹھا کر (۳۴۹ آپ بولی کو ایجاد کیا۔ کیا یہ ایسا اعتقاد ہے جس سے خدا کی قدرت الوہیت قابل اب یہ آیت جن کامل صداقتوں پر مشتمل ہے ان کو بھی سن لینا چاہئے سو منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ اصل مطلب اس آیت کے نزول سے یہ ہے کہ تا عاجز اور بے خبر بندوں کو اس نکسیر معرفت کی تعلیم کی جائے کہ ذات واجب الوجود کا اسم اعظم جو اللہ ہے کہ جو اصطلاح قرآنی ربانی کے رو سے ذات مستجمع جمیع صفات کا ملہ اور منزوعن جمیع رذائل اور معبود برحق اور واحد لاشریک اور مبدہ جمیع فیوض پر بولا جاتا ہے۔ اس اسم اعظم کی بہت کی صفات میں سے جو دو صفتیں بسم اللہ میں بیان کی گئی ہیں یعنے صفت رحمانیت اور حمیت انہیں دو صفتوں کے تقاضا سے کلام الہی کا نزول اور اس کے انوار و برکات کا صدور ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدا کے پاک کلام کا دنیا میں اترنا اور بندوں کو اس سے مطلع کیا جانا یہ صفت رحمانیت کا تقاضا ہے کیونکہ صفت رحمانیت کی کیفیت ( جیسا کہ آگے بھی تفصیل سے لکھا جائے گا ) یہ ہے کہ وہ صفت بغیر سبقت عمل کسی عامل کے محض جود اور بخشش الہی کے جوش سے ظہور میں آتی ہے جیسا خدا نے سورج اور چاند اور پانی اور ہوا وغیرہ کو بندوں کی بھلائی کے لئے پیدا کیا ہے۔ یہ تمام جود اور بخشش صفت رحمانیت کے رو سے ہے۔ اور کوئی شخص دعوی نہیں کر سکتا کہ یہ چیزیں میرے کسی عمل کی پاداش میں بنائی گئی ہیں۔ اسی طرح خدا کا کلام بھی کہ جو ہندوں کی اصلاح اور رہنمائی کے لئے اتر اوہ بھی اس صفت کے رو سے اترا ہے۔ اور کوئی ایسا متنفس نہیں کہ یہ دعوی کر سکے کہ میرے کسی عمل یا مجاہدہ یا کسی پاک باطنی کے اجر میں خدا کا پاک کلام کہ جو اس کی شریعت پر مشتمل ہے نازل ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر چہ طہارت اور پاک باطنی کا دم مارنے والے ۳۴۹) بقيه حاشیه در حاشیه نمبر کئی شاخوں پر جو اس کی مختلف قوتیں ہیں منقسم کیا ہے صرف ایک شاخ کے سرسبز ہونے سے کامل نہیں کہلا سکتا بلکہ وہ اُسی حالت میں کامل کہلائے گا کہ جب ساری شاخیں اس (۳۲۹ کی سرسبز و شاداب ہوں اور کوئی شاخ حد موزونیت سے کم یا زیادہ نہ ہو۔ یہ بات