براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 416
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۱۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۳۸) اسی طرح اپنی قدرت کا ملہ سے اس قدر نعمتیں عطا فرمائیں جن کو انسان گن نہیں سکتا لیکن وہی قادر خدا بولی جو انسان کے لئے نہایت ضروری تھی انسان کو بہ پایہ ثبوت پہنچایا ہے ان سب فضائل قرآنی کی نظیر پیش کرے اور کسی انسان کے کلام میں ایسے ہی کمالات ظاہری و باطنی دکھلاوے جن کا کلام الہی میں پایا جانا ہم نے ثابت کر دیا ہے۔ اب اتمام حجت کے لئے کچھ دقائق و حقائق سورۃ فاتحہ کے ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔ مگر اول سورۃ فاتحہ کو لکھ کر پھر اس کے معارف عالیہ کا لکھنا شروع کریں گے۔ اور سورۃ فاتحہ یہ ہے:۔ بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ اس سورۃ کی تفسیر جس میں کسی قدر بطور نمونہ اس سورۃ کے معارف و حقائق مذکور ہیں ذیل میں لکھے جاتے ہیں ۔ بسم ا الله الرحمن الرحیم ۔ یہ آیت سورۃ ممدوحہ کی آیتوں میں سے پہلی آیت ہے اور قرآن شریف کی دوسری سورتوں پر بھی لکھی گئی ہے اور ایک اور جگہ بھی قرآن شریف میں یہ آیت آئی ہے اور جس قدر تکرار اس آیت کا قرآن شریف میں بکثرت پایا جاتا ہے اور کسی آیت میں اس قدر تکرار نہیں پایا جاتا۔ اور چونکہ اسلام میں یہ سنت ٹھہر گئی ہے کہ ہر ایک کام کے ابتدا میں جس میں خیر اور برکت مطلوب ہو بطریق تبرک اور استمداد اس آیت کو پڑھ لیتے ہیں اس لئے یہ آیت دشمنوں اور دوستوں اور چھوٹوں اور بڑوں میں شہرت پاگئی ہے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص تمام قرآنی آیات سے بے خبر مطلق ہو ۔ تب بھی امید قوی ہے کہ اس آیت سے ہرگز اس کو بے خبری نہیں ہوگی ۔ غضب کی جگہ پر غضب رحم کی جگہ پر رحم ۔ یہ نہیں کہ نر احلم ہی حلم ہو اور دوسری تمام قوتوں کو معطل اور بیکار چھوڑ دے۔ ہاں منجملہ تمام اندرونی قوتوں کے قوت علم کو بھی اپنے موقعہ پر ظاہر کرنا ایک انسان کی خوبی ہے ۔ مگر انسان کی فطرت کا درخت جس کو خدا نے الفاتحة اتات