براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 414
روحانی خزائن جلد 1 ۴۱۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم ☆ ۳۴۶ ہوئی ضروری تھی بھی اور باوجود ان سب تکالیف کے کہ جو انسان پر پیدا ہوئی ۔ کہ جو انسان پر پیدا ہوتی ہے پڑگئیں ۳۴۶ ۳۴۷ خدا نے اس کے دردوں کا کچھ علاج نہ کیا اور اس کی حاجتوں کو پورا نہ کر سکا اور بقیه حاشیه نمبر ا ا لئے کافی ہیں اور انہیں سے ہمارے مخالفوں پر وہ حالت وارد ہوگی جس سے مردوں سے پر لے پار ہو ہو جائیں ۔ گے۔ اس لئے قرآن شریف کی تمام خوبیوں کو نظیر طلب کرنے کے لئے پیش کرنا غیر ضروری ہے اور نیز تمام خوبیوں کے لکھنے سے کتاب میں بھی بہت ساطول ہو جائے گا۔ سواسی قدر قتل موذی کے لئے کافی ہتھیار سمجھ کر پیش کیا گیا۔ اب با وصف اس کے کہ تمامتر رعایت و تخفیف قرآن شریف کی - کسی اقل قلیل سورۃ کی نظیر مخالفوں سے طلب کی جاتی ہے مگر پھر بھی ہر ایک باخبر آدمی پر ظاہر ہے کہ مخالفین با وجود سخت حرص اور شدت عناد اور پرلے درجہ کی مخالفت اور عداوت کے مقابلہ اور معارضہ سے قدیم سے عاجز رہے ہیں اور اب بھی عاجز ہیں اور کسی کو دم مارنے کی جگہ نہیں اور باوجود اس بات کے کہ اس مقابلہ سے ان کا عاجز رہنا ان کو ذلیل بناتا ہے۔ جہنمی ٹھہراتا ہے۔ کافر اور بے ایمان کا ان کو لقب دیتا ہے۔ بے حیا اور بے شرم ان کا نام رکھتا ہے۔ مگر مردہ کی طرح ان کے مونہہ سے کوئی آواز نہیں نکلتی ۔ پس لا جواب رہنے کی ساری ذلتوں کو قبول کرنا اور تمام ذلیل ناموں کو اپنے لئے روا رکھنا اور تمام قسم کی بے حیائی اور بے شرمی کی خس و خاشاک کو اپنے سر پر اٹھا لینا اس بات پر نہایت روشن دلیل ہے کہ ان ذلیل چمگادڑوں کی اس آفتاب حقیقت کے آگے کچھ پیش نہیں جاتی پس جبکہ اس آفتاب صداقت کی اس قدر تیز شعاعیں چاروں طرف سے چھوٹ رہی ہیں کہ ان کے سامنے ہمارے دشمن خفاش سیرت اندھے ہورہے ہیں تو اس صورت میں یہ بالکل مکابرہ اور سخت جہالت ہے کہ گلاب کے پھول کی خوبیوں کو کہ جو بہ نسبت قرآنی خوبیوں کے ضعیف اور کمزور اور قلیل الثبوت اس وقت حلم کے ظاہر ہونے کا موقعہ ہوتا ہے ۔ پس ایسے وقت میں عقل اپنی فہمائش سے غضب کو فرو کرتی ہے اور حلم کو حرکت دیتی ہے ۔ اور بعض وقت غضب کرنے کا وقت ہوتا ہے اور حلم پیدا ہو جاتا ہے اور ایسے وقت میں عقل غضب کو مشتعل حاشیه در حاشیه نمبر ۳ نقل مطابق اصل ۔ لفظ ” ہیں چاہئے ۔ (شمس)