براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 412
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۱۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم پیدا ہو کر پھر ایک مدت دراز تک گونگا اور بے زبان رہا اور اُس بدبختی کے زمانہ (۳۴۵) میں بصد دقت و مصیبت صرف اشارات سے کام نکالتا رہا۔ اور جو لمبی تقریر میں یا اشیه نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر پڑا کہ انہوں نے بھی مبہوت اور سراسیمہ ہو کر یہ کہا کہ یہ تو سحر مبین ہے ۔ اور پھر منصف کو اس بات سے بھی قرآن شریف کے بے مثل و مانند ہونے پر ایک قوی دلیل ملتی ہے اور روشن ثبوت ہاتھ میں آتا ہے کہ باوجود اس کے کہ مخالفین کو تیرہ سو برس سے خود قرآن شریف مقابلہ کرنے کی سخت غیرت دلاتا ہے اور لاجواب رہ کر مخالفت اور انکار کرنے والوں کا نام شریر اور پلید اور لعنتی اور جہنمی رکھتا ہے مگر پھر بھی مخالفین نے نامردوں اور مختوں کی طرح کمال بے شرمی اور بے حیائی سے اس تمام ذلت اور بے آبروئی اور بے عزتی کو اپنے لئے منظور کیا اور یہ روا رکھا کہ ان کا نام جھوٹا اور ذلیل اور بے حیا اور خبیث اور پلید اور شریر اور بے ایمان اور جہنمی رکھا جاوے مگر ایک قلیل المقدار سورۃ کا مقابلہ نہ کر سکے اور نہ ان خوبیوں اور صفتوں اور عظمتوں اور صداقتوں میں کچھ نقص نکال سکے کہ جن کو کلام الہی نے پیش کیا ہے ۔ حالانکہ ہمارے مخالفین پر در حالت انکار لازم تھا اور اب بھی لازم ہے کہ اگر وہ اپنے کفر اور بے ایمانی کو چھوڑ نانہیں چاہتے تو وہ قرآن شریف کی کسی سورۃ کی نظیر پیش کریں اور کوئی ایسا کلام بطور معارضہ ہمارے سامنے لاویں کہ جس میں یہ تمام ظاہری و باطنی خوبیاں پائی جاتی ہوں کہ جو قرآن شریف کی ہر یک اقل قلیل سورۃ میں پائی جاتی ہیں یعنی عبارت اس کی ایسی اعلیٰ درجہ کی بلاغت پر با وصف التزام راستی اور صداقت اور با وصف التزام ضرورت حقہ کے واقعہ ہو کہ ہر گز کسی بشر کے لئے ممکن نہ ہو کہ وہ معافی کسی دوسری ایسی ہی فصیح عبارت میں لا سکے اور مضمون اُس کا نہایت فوت ہو جاتے ۔ انسان کی صورتِ فطرت کہ جس پر قائم ہونے سے وہ انسان کہلاتا ہے یہ ہے کہ خدا نے اس کی سرشت میں جیسا عفو اور درگزر کی استعداد رکھی ہے ایسا ہی غضب اور انتقام کی خواہش بھی رکھی ہے اور ان تمام قوتوں پر عقل کو بطور افسر کے مقرر کیا ہے پس انسان اپنی حقیقی انسانیت تک تب پہنچتا ہے کہ جب فطرتی صورت