براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 405 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 405

روحانی خزائن جلد 1 ۴۰۳ براہین احمد به ہیں ۔ ان تغیرات میں اور اس دوسری صورت میں کہ جب بولی عدم محض سے پیدا کی ۳۳۸ جائے بڑا فرق ہے۔ کسی موجودہ بولی میں کچھ تغیر ہونا شے دیگر ہے اور عدم محض برابر تیرہ سو برس سے اپنی تمام خوبیاں پیش کر کے هل من معارض کا نقارہ بجا رہا ہے اور تمام دنیا کو باً واز بلند کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی ظاہری صورت اور باطنی خواص میں بے مثل و مانند ہے اور کسی جن یا انس کو اس کے مقابلہ یا معارضہ کی طاقت نہیں ۔ مگر پھر بھی کسی متنفس نے اس کے مقابلہ پر دم نہیں مارا بلکہ اس کی کم سے کم کسی سورۃ مثلاً سورۃ فاتحہ کی ظاہری و باطنی خوبیوں کا بھی مقابلہ نہیں کر سکا تو دیکھو اس سے زیادہ بدیہی اور کھلا کھلا معجزہ اور کیا ہوگا کہ عقلی طور پر بھی اس پاک کلام کا بشری طاقتوں سے بلند تر ہونا ثابت ہوتا ہے اور زمانہ دراز کا تجر بہ بھی اس کے مرتبہ اعجاز پر گواہی دیتا ہے اور اگر کسی کو یہ دونوں طور کی گواہی کہ جو عقل اور تجربہ زمانہ دراز کے رو سے یہ پایہ ثبوت پہنچ چکی ہے نا منظور ہو اور اپنے علم اور ہنر پر نازاں ہو یا دنیا میں کسی ایسے بشر کی انشا پردازی کا قائل ہو کہ جو قرآن شریف کی طرح کوئی بقيه حاشیه در حاشیه نمبر کلام بنا سکتا ہے تو ہم جیسا کہ وعدہ کر چکے ہیں کچھ بطور نمونہ حقائق وقائق سورۃ فاتحہ کے لکھتے ہیں اس کو چاہئے کہ بمقابلہ ان ظاہری و باطنی سورۃ فاتحہ کی خوبیوں کے کوئی اپنا کلام پیش (۳۳۹ کرے۔ لیکن قبل تفصیل حقائق عالیہ سورۃ فاتحہ کے ہم طول کلام سے کچھ اندیشہ نہ کر کے مکرر بیان کرتے ہیں کہ شخص معارض اس بات کو خوب یا د ر کھے کہ جیسا کہ ہم ابھی لکھ چکے ہیں سورۃ فاتحہ میں تمام قرآن شریف کی طرح دو قسم کی خوبیاں کہ جو بے مثل و مانند ہیں پائی جاتی ہیں ۔ یعنی ایک ظاہری صورت میں خوبی اور ایک باطنی خوبی ۔ ظاہری خوبی یہ کہ جیسا کہ ناگ پوجا ہے۔ بعض ہندو اس قدر رحم دل ہوتے ہیں کہ بالوں میں جوئیں جو پڑ جاتی ہیں ان کو بھی اپنے بالوں سے نہیں نکالتے ۔ بلکہ ان کے آرام کی نظر سے اپنے تمام بدن کے بال نہیں کٹاتے اور آپ دکھ اٹھاتے ہیں تا ان کے استھان میں صورت