براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 403 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 403

روحانی خزائن جلد ۱ لدا براہین احمدیہ حصہ چہارم زمانہ میں بھی انسان کا پیدا ہونا والدین کے وجود پر ہی موقوف ہوتا تو پھر کیونکر بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ اور ہنرل کے اختیار کرنے کے کچھ بول ہی نہیں سکتے ۔ اور اگر کچھ بولے بھی تو ادھورا۔ ناک ہے تو کان نہیں ۔ کان میں تو آنکھ ندارد ۔ سچ بولے تو فصاحت گئی ۔ فصاحت کے پیچھے پڑے تو جھوٹ اور فضول گوئی کے انبار کے انبار جمع کر لئے ۔ پیاز کی طرح سب پوست ہی پوست اور بیچ میں کچھ بھی نہیں ۔ پس جس صورت میں عقل سلیم صریح حکم دیتی ہے کہ ناکارہ ۳۳۷) اور خفیف معاملات اور سیدھے سادھے واقعات کو بھی ضرورت حقہ اور راستی کے التزام سے رنگین اور بلیغ عبارت میں ادا کرنا ممکن نہیں تو پھر اس بات کا سمجھنا کس قدر آسان ہے کہ معارف عالیہ کو ضرورت حقہ کے التزام کے ساتھ نہایت رنگین اور فصیح عبارت میں جس سے اعلیٰ اور اصلی متصور نہ ہو بیان کرنا بالکل خارق عادت اور بشری طاقتوں سے بعید ہے اور جیسا کہ گلاب کے پھول کی طرح کوئی پھول جو کہ ظاہر و باطن میں اس سے مشابہ ہو بنانا عادتاً محال ہے۔ ایسا ہی یہ بھی محال ہے کیونکہ جب ادنی ادنیٰ امور میں تجر بہ صحیحہ شہادت دیتا ہے اور فطرت سلیمہ قبول کرتی ہے کہ انسان اپنی کسی ضروری اور راست راست بات کو خواہ وہ بات کسی معاملہ خرید وفروخت سے متعلق ہو یا تحقیقات عدالت وغیرہ سے تعلق رکھتی ہو ۔ جب اس کو اصلح اور انسب طور پر بجالانا چاہے تو یہ بات غیر ممکن ہو جاتی ہے کہ اس کی عبارت خواہ نخواہ ہر محل میں موزوں اور منطقی اور فصیح اور بلیغ بلکہ اعلیٰ درجہ کی فصاحت اور بلاغت پر ہو تو پھر ایسی تقریر کہ جو علاوہ التزام راستی اور صدق کے معارف اور حقائق عالیہ سے بھی بھری ہوئی اور ضرورت حقہ کے رو سے صادر ہو اور تمام حقانی صداقتوں پر محیط ہو اور اپنے منصب اصلاح حالت موجودہ اور اتمام حجت اور الزام منکرین میں ایک اس کمال تک پہنچایا ہے کہ بس حد ہی کر دی ۔ ان کے ایک شاستر کا اشلوک اس وقت ہم کو یاد آیا ہے ۔ جس پر تقریباً سارے ہندوؤں کا عمل ہے اور وہ یہ ہے ۔ اہنسا ۳۳۸) برمودھر ما یعنے اس سے بڑا دھرم اور کوئی نہیں کہ کسی جاندار کو تکلیف نہ دی جائے