براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 402

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۰۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم (۳۳۷) بچہ انسان کا بغیر ذریعہ ما اور باپ کے پیدا نہیں ہوتا ۔ لیکن اگر اس ابتدائی ۳۳۷ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر لکھنا چاہے تو یہ بھی اس کے لئے ممکن نہیں جیسا کہ یہ بات ہر عاقل کے نزدیک نہایت بد یہی ہے کہ اگر مثلاً ایک دوکاندار جو کامل درجہ کا شاعر اور انشا پرداز ہو۔ یہ چاہے کہ جو اپنی اس گفتگو کو جو ہر روز اسے رنگا رنگ کے خریداروں اور معاملہ داروں کے ساتھ کرنی پڑتی ہے۔ کمال بلاغت اور رنگینی عبارت کے ساتھ کیا کرے اور پھر یہ بھی التزام رکھے کہ ہر محل اور ہر موقعہ میں جس قسم کی گفتگو کرنا ضروری ہے وہی کرے مثلاً جہاں کم بولنا مناسب ہے وہاں کم بولے اور جہاں بہت مغز زنی مصلحت ہے وہاں بہت گفتگو کرے اور جب اس میں اور اس کے خریدار میں کوئی بحث آ پڑے تو وہ طرز تقریر اختیار کرے جس سے اس بحث کو اپنے مفید مطلب طے کر سکے۔ یا مثلاً ایک حاکم جس کا یہ کام ہے کہ فریقین اور گواہوں کے بیان کو ٹھیک ٹھیک قلمبند کرے اور ہر یک بیان پر جو جو واقعی اور ضروری طور پر جرح قدح کرنا چاہئے وہی کرے اور جیسا کہ تنقیح مقدمہ کے لئے شرط ہے اور تفتیش امر متنازعہ فیہ کے لئے قرین مصلحت ہے سوال کے موقعہ پر سوال اور جواب کے موقعہ پر جواب لکھے اور جہاں قانونی وجوہ کا بیان کرنا لازم ہو ۔ ان کو درست طور پر حسب منشاء قانون بیان کرے اور جہاں واقعات کا بہ ترتیب تمام کھولنا واجب ہو۔ ان کو بہ پابندی ترتیب وصحت کھول دے اور پھر جو کچھ فی الواقعہ اپنی رائے اور بتائید اُس رائے کے وجوہات ہیں ان کو بہ صحت تمام بیان کرے اور باوصف ان تمام التزامات کے فصاحت بلاغت کے اس اعلیٰ درجہ پر اس کا کلام ہو کہ اس سے بہتر کسی بشر کے لئے ممکن نہ ہو تو اس قسم کی بلاغت کو بانجام پہنچانا بہ بداہت ان کے لئے محال ہے۔ سوانسانی فصاحتوں کا یہی حال ہے کہ بجر فضول اور غیر ضروری اور واہیات باتوں کے قدم ہی نہیں اٹھ سکتا۔ اور بغیر جھوٹ خوب یوں ہی سہی مگر کیا اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ اس قدر تا کید انسان نہیں کر سکتا ۔ اور انسانی قوتیں ان تا کیدوں کے بیان سے قاصر ہیں ۔ کیا رحم اور عضو کی تاکید بُت پرستوں کے پتکوں میں کچھ کم ہے۔ بلکہ بیچ پوچھو تو آریہ قوم کے بت پرستوں نے رحم کی تاکید کو