براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 396 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 396

براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۹۴ روحانی خزائن جلد ۱ حاشیه نمبراا پیدا کر کے اپنی قدرت تامہ کا ثبوت دے دیا ہے۔ پھر بولیوں کے بارہ میں کیوں اس کی اب ہم اس جگہ بغرض فائدہ عام یہ بات بطور قاعدہ کلیہ بیان کرتے ہیں کہ کلام کا وہ کون سا مرتبہ ہے جس مرتبہ پر کوئی کلام واقعہ ہونے سے اس صفت سے متصف ہو جاتا ہے کہ اُس کو بے نظیر اور منجانب اللہ کہا جائے اور پھر بطور نمونہ کوئی سورہ قرآن شریف کی لکھ کر اس میں یہ ثابت کر کے دکھلائیں گے کہ وہ تمام وجوہ بے نظیری جو قاعدہ کلیہ میں قرار دی گئی ہیں۔ اس سورہ میں یہ تمام و کمال یائی جاتی ہیں اور اگر کسی کو ان وجوہ بے نظیری کے قبول کرنے میں پھر بھی انکار ہوگا تو یہ بار ثبوت اسی کے ذمہ ہو گا کہ کوئی دوسرا کلام پیش کر کے دکھلاوے جس میں وہ تمام وجوہ بے نظیری پائے جاویں۔ سو واضح ہو کہ اگر کوئی کلام ان تمام چیزوں میں سے کہ جو خدائے تعالی کی طرف سے صادر اور اس کے دست قدرت کی صنعت ہیں کسی چیز سے مشابہت کھلی رکھتا ہو یعنے اس میں عجائبات ظاہری و باطنی ایسے طور پر جمع ہوں کہ جو مصنوعات الہیہ میں سے کسی شے میں جمع ہیں تو اس صورت میں کہا جائے گا کہ وہ کلام ایسے مرتبہ پر واقع ہے کہ جس کی مثل بنانے سے انسانی طاقتیں عاجز ہیں کیونکہ جس چیز کی نسبت بے نظیر اور صادر من اللہ ہونا عند الخواص والعوام ایک مسلم اور مقبول امر ہے جس میں کسی کو اختلاف و نزاع نہیں موجودہ کے رو سے وہ اصلی خدا نہیں کہ جو ہمیشہ حدوث اور تولد اور جسم اور موت سے پاک تھا۔ بلکہ نجیل کی تعلیم کے رو سے عیسائیوں کا خدا ایک نیا خدا ہے یا وہی خدا ہے کہ جس پر بدقسمتی سے بہت ہی مصیبتیں آئیں اور آخری حال اس کا پہلے حال سے کہ جو از لی اور قدیم تھا بالکل بدل گیا اور ہمیشہ قیوم اور غیر متبدل رہ کر آخر کار تمام قیومی اس کی خاک میں مل گئی۔ ماسوائے اس کے عیسائیوں کے محققین کو خود اقرار ہے کہ ساری انجیل الہامی طور پر نہیں لکھی گئی بلکہ متی وغیرہ نے بہت سی باتیں اس کی لوگوں سے سن سنا کر لکھی ہیں اور لوقا کی انجیل میں تو خود لوقا اقرار کرتا ہے کہ جن لوگوں نے مسیح کو دیکھا تھا ان سے دریافت کر کے میں نے لکھا ہے۔ پس اس تقریر میں خود لوقا اقراری ہے کہ اس کی انجیل الہامی نہیں۔ کیونکہ الہام کے بعد لوگوں سے پوچھنے کی کیا حاجت تھی ۔ اسی طرح مرقس کا مسیح کے شاگردوں میں سے ہونا ثابت نہیں۔ پھر وہ نبی کیونکر ہوا۔ بہر حال چاروں انجیلیں نہ اپنی صحت پر قائم ہیں اور بقيه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ ۳۳۱ ۳۳۱