براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 386

روحانی خزائن جلد ۱ ۳۸۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۲۹ فطرت پر نظر کرنے سے معلوم ہوگا کہ وہ ابتدائی زمانہ محض قدرت نمائی کا زمانہ تھا ۳۲۳ حالت میں پنڈت صاحب کا خیالی الہام ہمیشہ خطا اور غلطی میں ابتدا زمانہ سے ڈوبتا آیا ہے تو پھر اس کا اعتبار کیا رہا۔ غرض پنڈت صاحب کے الہام کی حقیقت اچھی طرح کھل گئی اور انہیں کے اقرار سے ثابت ہو گیا کہ انہوں نے صرف بے بنیا د خیالات کا نام الہام رکھا ہوا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جس چیز پر اکثر اوقات جھوٹ غالب ہے وہ حق شناسی کا آلہ کیونکر ہو سکے انسان کے اپنے ہی خیالات جن کا نام بقول پنڈت صاحب الہام ہے کیونکر انسان کو غلطی سے بچا سکتے ہیں اور کیونکر اس کو وہ تاریک خیال ہر یک تاریکی سے باہر نکال کر یقین کامل کی روشنی تک پہنچا سکتے ہیں۔ بقول پنڈت صاحب انہیں پراگندہ خیالات نے جو ان کے زعم میں باوصف اس پراگندگی کے الہام کے نام سے موسوم ہیں۔ ابتدائے زمانہ میں جو ایک پاک زمانہ تھا۔ ایسے لوگوں سے پتھروں کی پوجا کرائی اور چاند اور سورج کو ان کی نظر میں خدا ٹھہرایا کہ جو با قرار پنڈت صاحب الہامی فیض کے پہلے فیض یاب اور الہام بابوں کے صدر نشین تھے اور سب سے زیادہ خدا کی معرفت کے بھوکے اور پیاسے تھے اور دلی اخلاص سے اپنے لئے کوئی خدا مقرر کرنا چاہتے تھے اور اپنی اندرونی زندگی کو بہت مقدس رکھتے تھے ۔ کیونکہ ابھی دنیا میں گناہ نہیں پھیلا تھا اور است جنگ کا زمانہ تھا اور اپنے تئیں خدا کے حوالے کرنا چاہتے تھے اسی غرض سے تو خود بخود ان کے دل میں یہ بات گد گدائی تھی کہ آؤ اپنے لئے کوئی خدا مقرر کریں بے خدا ہی نہ رہیں ۔ ایمان اور ادراک صاف رکھتے تھے تب ہی تو ان کو ایک بار یک بات سوجھی اور خود بخود بیٹھے بٹھائے خدا کی تلاش میں پڑ گئے۔ پس جس حالت میں بقول پنڈت صاحب ایسے پاک لوگ جو پر میشر کی پر حکمت پیدائش کا پہلا نمونہ تھا اور حال کے زمانہ کے انواع اقسام کے تعصبات اور آلودگیوں سے پاک اور دلی جوش سے صانع عالم کی تلاش میں مصروف تھے اور اپنی تازہ پیدائش اور پیدا کنندہ کے تازہ فعل سے ذاتی واقفیت رکھتے تھے۔ ان کے الہام اور عقل کا یہ حال ہو کہ پتھروں اور پہاڑوں کی پوجا شروع کر دیں اور چاند اور سورج اور آگ اور ہوا کو اپنا پیدا کنندہ سمجھ بیٹھیں تو پھر