براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 359

روحانی خزائن جلد 1 ہویدا ہے ـه حاشیه ۳۵۷ براہین احمدیہ حصہ چہارم اور ضعیف الاستعداد قوی الاستعداد کا مقابلہ نہیں کرسکتا حالانکہ کیا کچے طالبوں کی روح ایسے انکشاف کے لئے نہیں تڑپتی جس سے ان کو اس زندہ خدا کے وجود اور عالم مجازات پر کامل تستی اور تشفی ملے اور اس کی ہستی اور اس کے وعدوں کا حقیقی طور پر پتہ لگ جاوے۔ ۳۰۷ کیا یہ امر منصف پر پوشیدہ رہ سکتا ہے کہ جو صد باند ہی جھگڑے طول طویل تقریروں سے پیدا ہوئے ہیں جن کا اصل موجب غلط تقریروں کا اثر ہے۔ وہ صرف قانون قدرت کے اشارات سے اور اسی مہم صحیفہ کے ایمایات سے طے نہیں ہو سکتے بلکہ جو بات تقریروں نے بگاڑی ہے۔ اس کی اصلاح بھی تقریروں ہی سے ہو سکتی ہے اور جو کلام کا مارا ہوا ہے وہ کلام ہی سے زندہ ہوسکتا ہے۔ مگر بمقابلہ نا پاک کلام کے کلام ایسا پاک چاہیے جو بالکل حق محض اور خدا کے خالص علم سے نکلا ہو۔ پھر جب کہ باوجود بدیہی الصداقت ہونے مسئلہ ضرورت الہام کے پھر بھی بعض لوگ الہام سے انکار کئے جاتے ہیں اور خدا کی مقدس کتاب کو انسان کا اختراع خیال کرتے ہیں تو کیونکر خیال کیا جائے کہ ان کو کچھ خدا کا خوف بھی ہے اور کیونکر امید رکھیں کہ ان کے مونہہ سے بھی کوئی انصاف کا کلمہ نکلے گا۔ جو لوگ کسی حالت میں جھوٹ کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ ان کو ہمارا کہنا بھی عبث ہے اور ان کا اس کتاب کو دیکھنا بھی عبث ۔ افسوس که صد با آدمی عاقل کہلا کر پھر جہالت میں گرفتار ہیں۔ آنکھیں رکھتے ہیں پر دیکھتے نہیں۔ اور کان بھی ہیں پر سنتے نہیں۔ اور دل بھی ہے پر سمجھتے نہیں۔ ایسے لوگ بر ہمو سماج والوں میں کچھ کم نہیں جنہوں نے اپنی عقلمندی بھی دکھلائی تو یہ دکھلائی کہ خدا کی صفات قدیمہ کو اس کی ذات میں سے ادھیڑ کر الگ رکھ دیا اور گونگا اور ناقص الفیض اور ناقص القدرت نام رکھا۔ جب ان کے عقلمندوں کا یہ حال ہے تو کیا وہ جس کی عقل ان میں سے ناقص ہے ان کو دیکھ کر بکلی خدا کی صفات سے منکر نہیں ہو جائے گا۔ کیونکہ اگر خدا بولنے پر قادر نہیں تو پھر کیونکر کوئی سمجھے کہ دیکھنے اور سننے اور جاننے پر قادر ہے۔ اگر اس میں صفت کلام نہیں پائی جاتی تو پھر اس پر کیا دلیل ہے کہ اور صفتیں پائی جاتی ہیں اور اگر صفت تکلم تو اس کو حاصل ہے پر اس صفت سے کسی مخلوق کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا تو کیا یہ