براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 357 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 357

روحانی خزائن جلد 1 ނ 1 بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ ۳۵۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم ، صادر ہوئی ہے وہ اعلیٰ اور جو ادنیٰ طاقت سے صادر ہوئی ہے وہ ادنیٰ ہو یہ حاشیہ پڑھیں متاثر اور ہدایت پذیر ہو جائیں گے کیونکہ دانا اور شریف آدمی کسی بحث میں اپنے تئیں ملزم ہوتے دیکھ کر اپنی حالت و رسوائی کی نوبت تک نہیں پہونچا تا اور اس وقت سے پہلے جو ذلت ظاہر ہو عزت کے ساتھ حق کو قبول کر کے ارباب حق کی نظر میں قابل تعظیم ٹھہر جاتا ہے لیکن جو شخص اپنی فطرت سے بے حیا اور بے شرم ہے اس کو رسوائی اور ذلت کا ذرہ خیال نہیں اور رسوا ہونے سے وہ کچھ بھی اندیشہ نہیں رکھتا۔ اور حقیقت میں اکثر ایسی جنس کے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں کہ جو صفت حیا سے بکلی الگ ہو کر بکمال بے حیائی ایک امر بدیہی البطلان پر اصرار کرتے رہتے ہیں اور ہزار سمجھاؤ اپنی ضد کو نہیں چھوڑتے اور اپنی راہ کج سے باز نہیں آتے اور دن کو دیکھ کر پھر اسے رات کہے جاتے ہیں اور اس بات سے کچھ خوف نہیں رکھتے کہ لوگ انہیں اندھا اور نا بینا کہیں گے یہی لوگ ہیں جو باعث شدت تعصب وقلت علم ولیاقت مردہ کی طرح پڑے ہیں اور صداقت کی طرف ایک ذرہ حرکت نہیں کرتے اور راستی اور استقامت کا راستہ نہیں پکڑتے جو ادا دیکھو نرالی جو بات دیکھو ٹیڑھی، انہیں کی نسبت ہم بار بار میں بھی روز ازل سے یہ خاصیت ڈال رکھی ہے کہ ان کی توجہ اور دعا اور صحبت اور عقد ہمت بشرط (۳۰۶ قابلیت امراض روحانی کی دوا ہے اور اُن کے نفوس حضرت احدیت سے بذریعہ مکالمات و مخاطبات و مکاشفات انواع اقسام کے فیض پاتے رہتے ہیں اور پھر وہ تمام فیوض خلق اللہ کی ہدایت کے لئے ایک عظیم الشان اثر دکھلاتے ہیں ۔ غرض اہل اللہ کا وجود خلق اللہ کے لئے ایک رحمت ہوتا ہے اور جس طرح اس جائے اسباب میں قانون قدرت حضرت احدیت کا یہی ہے کہ جو شخص پانی پیتا ہے وہی پیاس کی درد سے نجات پاتا ہے اور جو شخص روٹی کھاتا ہے وہی بھوک کے دکھ سے خلاصی حاصل کرتا ہے اسی طرح عادت الہیہ جاری ہے کہ امراض روحانی دور کرنے کے لئے انبیا اور ان کے کامل تابعین کو ذریعہ اور وسیلہ ٹھہرا رکھا ہے انہیں کی صحبت میں دل تسلی پکڑتے ہیں اور بشریت کی آلائشیں رو لکھی ہوتی ہیں اور نفسانی ظلمتیں اٹھتی ہیں اور محبت الہی کا شوق جوش مارتا ہے اور آسمانی برکات