براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 356
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۵۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۰۵ ضعیف کا فرق ہوتا ہے وہ ضرور ہے کہ کلام میں ظاہر ہو یعنے جو کلام اعلی طاقت خدا کے پاک نبیوں کے نفوس قدسیہ کو اپنے نفس امارہ پر قیاس کر کے دنیا کے لالچوں سے آلود ہ سمجھتا ہے حالانکہ کلام الہی کے مقابلہ پر آپ ہی جھوٹا اور ذلیل اور رسوا ہورہا ہے ایسے شخص کی شقاوت اور بدبختی پر خود اس کی روح گواہ ہو جاتی ہے کہ جو اس کو ہر وقت ملزم کرتی رہتی ہے اور بلا شبہ وہ خدا کے حضور میں اپنی بے ایمانی کا پاداش پائے گا کیونکہ جو شخص نہایت سخت اور جلانے والی دھوپ میں کھڑا ہے وہ کل قلیل کا آرام نہیں پاسکتا۔ سو اگر چہ نصیحت ایسا تیر نہیں ہے کہ چھوٹتے ہی پار ہو جائے لیکن جس کام کے اختیار کرنے میں صریح دنیا کی رسوائی نظر آتی ہے اور آخر کی بد بختی بھی ٹلنے والی چیز نہیں اس کام کو کیوں ایسے لوگ اختیار کریں جن کا یہ دعوی ہے جو ہم عقل کی راہوں پر چلنا چاہتے ہیں بالخصوص بر ہمو سماج کے بعض متین اور شائستہ لوگ جو ذی علم اور لائق آدمی ہیں ان کی حکیمانہ طبیعت پر ہمیں قومی امید ہے کہ وہ بصدق ولی ان تمام صداقتوں کو جن کی سچائی اس حاشیہ میں ثابت ہو چکی ہے۔ قبول کرلیں گے بلکہ میں یہ امید رکھتا ہوں کہ قبل اس کے جو ایسے لوگ بہ تمام و کمال سے نسبت دینا کمال درجہ کی سمجھ نہی اور غایت درجہ کی بدنصیبی ہے کیونکہ وہ دنیا کے ذلیل جیفہ خواروں کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتے بلکہ وہ آفتاب اور چاند کی طرح آسمانی نور ہیں اور حکمت الہیہ کے قانون قدیم نے اسی غرض سے ان کو پیدا کیا ہے کہ تا دنیا میں آکر دنیا کو منور کریں۔ یہ بات بتوجہ تمام یا د رکھنی چاہئے کہ جیسے خدا نے امراض بدنی کے لئے بعض ادویہ پیدا کی ہیں اور عمدہ عمدہ چیزیں جیسے تریاق وغیرہ انواع اقسام کے آلام استقام کے لئے دنیا میں موجود کی ہیں اور ان ادویہ میں ابتدا سے یہ خاصیت رکھی ہے کہ جب کوئی بیمار بشر طیکہ اس کی بیماری درجه شفایابی سے تجاوز نہ کر گئی ہو ان دواؤں کو برعایت پر ہیز وغیرہ شرائط استعمال کرتا ہے تو اس حکیم مطلق کی اسی پر عادت جاری ہے کہ اس بیمار کو حسب استعداد اور قابلیت کسی قدر صحت اور تندرستی سے حصہ بخشتا ہے یا لیکلی شفا عنایت کرتا ہے اسی طرح خداوند کریم نے نفوس طیبہ ان مقربین ۳۰۵ ۳۰۵ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲