براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 353
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۵۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم ہو کہ یہ وسوسہ اول تو ہماری اس تقریر متذکرہ بالا سے دور ہوتا ہے جس میں ہم نے جا نہیں تلف ہوئیں ہزار ہا سر کاٹے گئے لاکھوں مقدسوں کے خون سے زمین تر ہوگئی پر باوجودان سب آفتوں کے انہوں نے ایسا صدق دکھایا کہ عاشق دلدادہ کی طرح پایز نجیر ہو کر بنتے رہے اور دکھ اٹھا کر خوش ہوتے رہے اور بلاؤں میں پڑ کر شکر کرتے رہے اور اسی ایک کی محبت میں وطنوں سے بے وطن ہو گئے اور عزت سے ذلت اختیار کی اور آرام سے مصیبت کو سر پر لے لیا اور تو نگری سے مفلسی قبول کر لی وہ ہر یک پیوند ورابطہ اور خویشی سے غریبی اور تنہائی اور بے کسی پر قناعت کی اور اپنے خون کے بہانے سے اور اپنے سروں کے کٹانے سے اور اپنی جانوں کے دینے سے خدا کی ہستی پر مہریں لگادیں اور کلام الہی کی کچی متابعت کی برکت سے وہ انوار خاصہ ان میں پیدا ہو گئے کہ جو ان کے غیر میں کبھی نہیں پائے گئے اور ایسے لوگ نہ صرف پہلے زمانوں میں موجود تھے بلکہ یہ برگزیدہ جماعت ہمیشہ اہل اسلام میں پیدا ہوتی رہتی ہے اور ہمیشہ اپنے نورانی وجود سے اپنے مخالفین کو ملزم و لاجواب کرتی آئی ہے لہذا منکرین پر ہماری یہ حجت بھی تمام ہے کہ قرآن شریف جیسے مراتب علمیہ میں اعلیٰ درجہ کمال تک پہونچاتا ہے ویسا ہی مراتب عملیہ کے کمالات بھی اسی کے ذریعہ سے ملتے ہیں اور آثار و انوار قبولیت حضرت احدیت انہیں لوگوں میں ظاہر الی اللہ اور غلبہ حب الہی اس قدر کمال کے درجہ تک پہونچ جائے کہ اس شخص کی صحبت اور توجہ اور دعا سے بھی یہ امور دوسرے ذی استعدا دلوگوں میں پیدا ہوسکیں اور خود وہ اپنی ذاتی حالت میں ایسا منور الباطن ہو کہ اس کی برکات طالب حق کی نظر میں بدیہی الظہور ہوں اور اس میں وہ تمام خصوصیات اور مخاطبات حضرت احدیت پائی جائیں کہ جو مقربین میں پائی جاتی ہیں۔ اس جگہ کوئی شخص نجومیوں اور جوتشیوں وغیرہ غیب گویوں کی پیشگوئیوں پر دھوکا نہ کھاوے اور بخوبی یا در کھے کہ ان لوگوں کو اہل اللہ کے انوار اور برکات سے کچھ بھی مناسبت نہیں ۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے کہ قادرانہ پیشگوئیاں اور کریمانہ مواعید کہ جو حق محض ہیں اور جن میں سراسر (۳۰۳) بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲