براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 351

روحانی خزائن جلد 1 ۳۴۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم ہر قسم کی ترقی کرنا اور مرتبۂ کمال تک پہونچ جانا عند العقل ممنوع نہیں ہے ۳۰۱ بقیه حاشیه نمبرا حاشیه در حاشیه نمبر ۲ خدا ترس روحوں میں مضبوطی سے جما دیا ہے اور کروڑ ہا دلوں پر ایک بزرگ اثر ڈال رکھا ہے پس چونکہ اس کی معلم اور قدیمی شہادتوں کی بلند آوازوں سے ہر یک انسان کی قوت سامعہ بھر گئی ہے اور ہر یک عصبہ سماعت کی تمام تارو پود میں وہ دلر با آوازیں ایسی سرایت کر گئی ہیں کہ ایک نادان اور اقی آدمی کہ جو عقل کے نام سے بھی واقف نہیں اور نہ یہ جانتا ہے کہ دلائل کیا چیز ہیں اگر خدا کی ہستی کے بارہ میں سوال کیا جائے کہ آیا وہ موجود ہے یا نہیں تو ایسے سائل کو وہ نہایت درجہ کا احمق جانتا ہے اور خدا کی ہستی پر ایسا پختہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اگر تمام مجرد عقل پرست ایک طرف رکھے جائیں ۳۰۱ اور دوسری طرف اس کو رکھا جائے تو اس کے یقین کا پلہ بھاری ہو اور لطف یہ کہ معقولیوں اور فلسفیوں کی طرح ایک دلیل بھی اسے یاد نہیں ہوتی بلکہ اس کی بلا کو بھی خبر نہیں ہوتی کہ برہان اور دلیل اور حجت اور قیاس کسے کہتے ہیں غرض انہیں برکتوں کے سہارے سے برہمو سماج والے بھی با وجود سخت بیرا ہی اختیار کرنے کے اب تک کسی قدر خدا کی ہستی کے قائل ہیں اور خدا کے موجود ہونے کی بزرگ شہرت نے ان کے خیالات کو بھی آوارہ گردی سے تھام رکھا ہے پس ٹھنڈی اور دلا رام ہوا سے اس کو ہر دم اور ہر لحظہ تازہ زندگی بخشتی رہتی ہے پس وہ اپنی وفات سے پہلے ہی ان عنایات الہیہ کو بچشم خود دیکھ لیتا ہے جن کے دیکھنے کے لئے دوسرے لوگ بعد مرنے کے امیدیں باندھتے ہیں اور یہ سب نعمتیں کسی راہبانہ محنت اور ریاضت پر موقوف نہیں بلکہ صرف قرآن شریف کے کامل اتباع سے دی جاتی ہیں اور ہر یک طالب صادق ان کو پاسکتا ہے ہاں ان کے حصول میں خاتم الرسل اور فخر الرسل کی بدرجہ کامل محبت بھی شرط ہے تب ۳۰۱ بعد محبت نبی اللہ کے انسان ان نوروں میں سے بقدر استعداد خود حصہ پالیتا ہے کہ جو کامل طور پر نبی اللہ کو دی گئی ہیں۔ پس طالب حق کے لئے اس سے بہتر اور کوئی طریق نہیں کہ وہ کسی صاحب بصیرت اور معرفت کے ذریعہ سے خود اس دین متین میں داخل ہو کر اور اتباع کلام الہی اور محبت رسول مقبول اختیار کر کے ہمارے ان بیانات کی حقیقت کو بچشم خود دیکھ لے