براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 341 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 341

روحانی خزائن جلد ۱ ۳۳۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم طاقتوں کے تابع ہے جو کوئی علمی طاقتوں میں زیادہ تر ہے اس کی تقریر کی (۲۹۳) بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ علم میں کامل اور اپنے عہدوں میں وفادار ہو اور ہا ایں ہمہ ان امور کے پورا کرنے پر قادر بھی ہو جن سے سامع کے دل میں خوف یا امید یا تسلی پیدا ہوتی ہے ۔ کیونکہ یہ بات نہایت بدیہی اور ظاہر ہے کہ اکثر اوقات انسان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اگر چہ وہ ایک گناہ کو حقیقت میں ایک گناہ سمجھتا ہے یا ایک امر خلاف استقامت اور صبر کو خلاف استقامت بھی جانتا ہے مگر کچھ ایسا غفلت کا پردہ یا نا گہانی غم کا صدمہ اس کے دل پر آپڑتا ہے کہ وہ پردہ تب ہی اٹھتا ہے کہ جب دوسرا شخص جس کی عظمت اور بزرگی اور صداقت اس کے دل میں متمکن ہے اس کو سمجھاتا ہے اور ترغیب یا ترہیب یا تسلی و تشفی یعنے جیسا کہ موقعہ ہو اس کو دیتا ہے اور اس کا کلام اثر میں کچھ ایسا عجیب ہوتا ہے کہ گو وہ انہیں دلائل کو پیش کرے کہ جو سامع کو معلوم ہیں مگر وہ پا شکستہ کو کمر بستہ اورست کو چست اور ضعیف کو قوی اور مضطرب کو تسلی یا فتہ کر دیتا ہے اور یہ سب امور ایسے ہیں جن میں دانا انسان آپ اقراری ہوتا ہے کہ وہ اپنے مغلوب النفس یا بے قرار ہونے کی حالتوں میں ان کا محتاج ہے بلکہ جن کی روحیں نہایت لطیف اور طالب حق اور جن کے دل گناہوں کی کدورت اور کثافت سے جلد تر بیزار ہو جاتے ہیں ۔ وہ اپنے مغلوب النفس ہونے کی حالتوں میں خود بیمار کی طرح اس علاج کے مستدعی ہوتے ہیں تا کسی مرد خدا کی زبان سے کلمه ترغیب یا ترہیب یا کلمات تسلی و تشفی سن کر اپنے اندرونی انقباض سے شفا پاویں غرض بلاشبہ انسان کی فطرت میں یہ خاصیت ہے کہ گو وہ کیسا ہی عالم فاضل کیوں نہ ہو مگر حوادث اور جذبات نفسانی کے وقت جیسا دوسروں کی باتوں سے متاثر ہوتا ہے صرف اپنی باتوں سے ہرگز نہیں ۔ مثلاً جس پر کوئی حادثہ پڑتا ہے یا کوئی ماتم وقوع میں آ جاتا ہے وہ فی نفسہ اس بات سے کچھ بے خبر نہیں ہوتا کہ دنیا خوشی اور امن کی جگہ نہیں نہ ہمیشہ رہنے کا مقام ہے لیکن صدمہ کے وقت اس عاجز انسان پر قلق اور بے قراری غلبہ کر جاتی ہے اور دل ہاتھ سے نکلتا جاتا زنانہ باتیں سنتے ہیں اب ان لوگوں پر حضرات عیسائیوں کی دیانت اور خدا ترسی جیسی کہ ہے بخوبی کھل جائے گی ۔